kites201019.bsky.social
kites201019.bsky.social
kites201019.bsky.social
@kites201019.bsky.social
SPANISH BLOGS, SPANISH STORIES
URDU BLOGS, URDU STORIES
SPANISHBLOGS, SPANISHSTORIES,
URDUBLOGS, URDUSTORIES,
وفادار کتا

کسی گاؤں میں ایک بوڑھا شخص اپنی بیوی کے ساتھ رہتا تھا۔ دونوں بہت سادہ اور نیک دل تھے۔ ان کے پاس موتی نام کا ایک وفادار کتا تھا، جس سے وہ دونوں بہت محبت کرتے تھے۔ موتی بھی اپنے مالکوں کا بے حد وفادار تھا۔ ایک دن بوڑھا شخص اپنے کھیت میں کام کر رہا تھا کہ اچانک موتی اسے کھینچ کر ایک جگہ لے…
وفادار کتا
کسی گاؤں میں ایک بوڑھا شخص اپنی بیوی کے ساتھ رہتا تھا۔ دونوں بہت سادہ اور نیک دل تھے۔ ان کے پاس موتی نام کا ایک وفادار کتا تھا، جس سے وہ دونوں بہت محبت کرتے تھے۔ موتی بھی اپنے مالکوں کا بے حد وفادار تھا۔ ایک دن بوڑھا شخص اپنے کھیت میں کام کر رہا تھا کہ اچانک موتی اسے کھینچ کر ایک جگہ لے گیا۔ وہ زور زور سے بھونکنے لگا اور اپنے پنجوں سے زمین کریدنے لگا۔
nzeecollection.com
October 10, 2026 at 5:34 PM
جامن والا بابا اور تنہائی کا خاتمہ

کسی محلے میں ایک بڑا سا مکان تھا۔ اتنا بڑا کہ اس میں کئی خاندان آرام سے رہ سکتے تھے۔ اس مکان میں بڑے میاں اکیلے رہتے تھے۔ بڑے میاں کا گھر بھائیوں بھائیوں کا کرتا تھا، کوئی نہیں تھا جس سے باتیں کرکے بڑے میاں اپنا دل بہلاتے۔ بڑے میاں کی بیوی اللہ میاں کو پیاری ہو…
جامن والا بابا اور تنہائی کا خاتمہ
کسی محلے میں ایک بڑا سا مکان تھا۔ اتنا بڑا کہ اس میں کئی خاندان آرام سے رہ سکتے تھے۔ اس مکان میں بڑے میاں اکیلے رہتے تھے۔ بڑے میاں کا گھر بھائیوں بھائیوں کا کرتا تھا، کوئی نہیں تھا جس سے باتیں کرکے بڑے میاں اپنا دل بہلاتے۔ بڑے میاں کی بیوی اللہ میاں کو پیاری ہو چکی تھیں، کوئی اولاد بھی نہیں تھی۔ دو بھائی تھے، دونوں خوب تعلیم حاصل کرکے پرائے دیسوں میں بس گئے، وہیں شادیاں کر لیں اور وہیں کے ہو کر رہ گئے۔
nzeecollection.com
October 10, 2026 at 4:16 PM
    نادانوں کو نصیحت

کچھ بندروں کی ایک ٹولی کسی پہاڑ پر رہتی تھی اور وہاں کے پھل پھول اور گھاس پھوس پر گزارا کرتی تھی۔ اچانک ایک اندھیری رات میں برف باری ہونے لگی اور سردی کی شدت سے انھیں اپنا خون رگوں میں جمتا محسوس ہوا۔ وہ پریشان ہو کر ادھر ادھر دوڑنے لگے اچانک انہوں نے راستے میں ایک جگنو پڑا…
    نادانوں کو نصیحت
کچھ بندروں کی ایک ٹولی کسی پہاڑ پر رہتی تھی اور وہاں کے پھل پھول اور گھاس پھوس پر گزارا کرتی تھی۔ اچانک ایک اندھیری رات میں برف باری ہونے لگی اور سردی کی شدت سے انھیں اپنا خون رگوں میں جمتا محسوس ہوا۔ وہ پریشان ہو کر ادھر ادھر دوڑنے لگے اچانک انہوں نے راستے میں ایک جگنو پڑا ہوا پایا اور اس خیال  سے کہ یہ چنگاری ہے اس کے ارد گرد لکڑیاں جمع کرنے لگے اور پھونک مارنے لگے۔
nzeecollection.com
October 10, 2026 at 3:12 PM
کتوں کا کھانا

سرکاری افسر کو تین چار ماتحتوں کے ساتھ اپنی دکان کی طرف آتا دیکھ کر دکاندار نے اپنی حالت ٹھیک کی اور جلدی سے گدی سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ ہاتھ جوڑ کر انہیں سلام کیا اور بٹھانے کے لیے اپنی دھوتی کے پلو سے کرسیاں صاف کرنے لگا۔ وہ لوگ کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ ان کے کھانے کے لیے خشک میوہ اور…
کتوں کا کھانا
سرکاری افسر کو تین چار ماتحتوں کے ساتھ اپنی دکان کی طرف آتا دیکھ کر دکاندار نے اپنی حالت ٹھیک کی اور جلدی سے گدی سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ ہاتھ جوڑ کر انہیں سلام کیا اور بٹھانے کے لیے اپنی دھوتی کے پلو سے کرسیاں صاف کرنے لگا۔ وہ لوگ کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ ان کے کھانے کے لیے خشک میوہ اور پینے کے لیے پھلوں کا رس آ گیا۔ افسر نے کھانے پینے کے بعد اپنی مونچھوں پر انگلیاں پھیریں اور دکاندار سے حساب کتاب کا رجسٹر لے کر جانچ پڑتال کرنے لگا۔ ایک صفحے پر اس کی نظر ٹھہر گئی۔ وہ حیران بھی ہوا اور مسکرایا بھی۔ اس نے وہ صفحہ اپنے ماتحتوں کو دکھایا۔ وہ بھی پڑھ کر مسکرانے لگے۔
nzeecollection.com
October 10, 2026 at 1:06 PM
دوستی

کہتے ہیں کہ کسی زمانے میں بشیر اور نذیر نامی دو گہرے دوست ہوا کرتے تھے۔ تھے تو وہ دوست، لیکن دونوں میں اتنی گہری دوستی تھی کہ کسی کو اندازہ ہی نہ ہو پاتا کہ دوست ہیں یا سگے بھائی۔ بلکہ کوئی اجنبی جب پہلی بار ان سے ملتا تو اسے یہی گماں ہوتا کہ دونوں بھائی ہیں اور ان کے درمیان بہت ہی گہرا تعلق…
دوستی
کہتے ہیں کہ کسی زمانے میں بشیر اور نذیر نامی دو گہرے دوست ہوا کرتے تھے۔ تھے تو وہ دوست، لیکن دونوں میں اتنی گہری دوستی تھی کہ کسی کو اندازہ ہی نہ ہو پاتا کہ دوست ہیں یا سگے بھائی۔ بلکہ کوئی اجنبی جب پہلی بار ان سے ملتا تو اسے یہی گماں ہوتا کہ دونوں بھائی ہیں اور ان کے درمیان بہت ہی گہرا تعلق ہے۔ …
nzeecollection.com
October 10, 2026 at 8:31 AM
بلاعنوان

ایک بادشاہ راستہ بھٹک کر کسی ویرانے میں پہنچ گیا،وہاں جھونپڑی تھی اس جھونپڑی میں رہنے والے شخص نے بادشاہ کی بڑی خدمت کی، وہ غریب جانتا بھی نہیں تھا کہ یہ بادشاہ ہے، مسافر سمجھ کر خدمت کی، بادشاہ بہت خوش ہوا، جب جانے لگا تو اس نے اپنی انگلی سے انگوٹھی اتاری اور کہا:تم مجھے نہیں جانتے ہو کہ…
بلاعنوان
ایک بادشاہ راستہ بھٹک کر کسی ویرانے میں پہنچ گیا،وہاں جھونپڑی تھی اس جھونپڑی میں رہنے والے شخص نے بادشاہ کی بڑی خدمت کی، وہ غریب جانتا بھی نہیں تھا کہ یہ بادشاہ ہے، مسافر سمجھ کر خدمت کی، بادشاہ بہت خوش ہوا، جب جانے لگا تو اس نے اپنی انگلی سے انگوٹھی اتاری اور کہا:تم مجھے نہیں جانتے ہو کہ میں بادشاہ ہوں۔یہ انگوٹھی اپنے پاس رکھو، جب کبھی کوئی ضروت ہوگی ہمارے محل میں آجانا، دروازے پر جو دربان ہوگا اسے یہ انگوٹھی دکھا دینا، ہم کسی بھی حالت میں ہوں گے وہ ہم سے ملاقات کرادے گا۔بادشاہ چلا گیا،
nzeecollection.com
October 10, 2026 at 2:46 AM
کسی کو راز دار نہ بناؤ

       ایک زمانے کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ اپنی فیاضی اور انصاف پسندی کی وجہ سے دور دور تک مشہور تھا۔ ایک روز وہ شاہی لشکر کے ساتھ شکار کی غرض سے ایک سرسبز و شاداب جنگل کی طرف روانہ ہوا۔ جب وہ جنگل کے قریب پہنچے تو ہر شخص اپنے اپنے شکار میں مشغول ہو گیا۔اس دوران بادشاہ نے اپنے…
کسی کو راز دار نہ بناؤ
       ایک زمانے کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ اپنی فیاضی اور انصاف پسندی کی وجہ سے دور دور تک مشہور تھا۔ ایک روز وہ شاہی لشکر کے ساتھ شکار کی غرض سے ایک سرسبز و شاداب جنگل کی طرف روانہ ہوا۔ جب وہ جنگل کے قریب پہنچے تو ہر شخص اپنے اپنے شکار میں مشغول ہو گیا۔اس دوران بادشاہ نے اپنے خاص وزیر کو اپنے پاس بلایا اور کہا:
nzeecollection.com
October 9, 2026 at 2:44 PM
ڈاکوؤں کی توبہ

ایک شہر میں چند خطرناک ڈاکو آئے۔ وہ چوری اور لوٹ مار کے ذریعے لوگوں کو نقصان پہنچاتے تھے۔ جب انہیں گرفتار ہونے کا خوف لاحق ہوا تو ان کے سردار نے ایک چال سوچی۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ”ہم سب درویشوں کا روپ دھار لیتے ہیں۔ زاہدانہ لباس پہنیں گے، ہاتھوں میں تسبیح رکھیں گے اور ہر وقت…
ڈاکوؤں کی توبہ
ایک شہر میں چند خطرناک ڈاکو آئے۔ وہ چوری اور لوٹ مار کے ذریعے لوگوں کو نقصان پہنچاتے تھے۔ جب انہیں گرفتار ہونے کا خوف لاحق ہوا تو ان کے سردار نے ایک چال سوچی۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ”ہم سب درویشوں کا روپ دھار لیتے ہیں۔ زاہدانہ لباس پہنیں گے، ہاتھوں میں تسبیح رکھیں گے اور ہر وقت اللہ کا ذکر کرتے رہیں گے۔ اس طرح کسی کو ہم پر شک نہیں ہوگا۔“
nzeecollection.com
October 9, 2026 at 2:17 PM
مرغے میاں کو اپنی آواز سے عشق تھا۔ صبح کی پہلی کرن ابھی افق پر نمودار بھی نہ ہوتی کہ وہ چھت پر چڑھ کر گردن اکڑاتا، سینہ پھلاتا، آنکھیں بند کرتا اور اپنی پوری قوت سے بانگ دینا شروع کر دیتا۔ اس کے نزدیک یہ محض اذان نہیں تھی، ایک فن تھا، ایک عبادت تھی، ایک ایسا اعلان تھا جسے وہ چاہتا تھا کہ دنیا کے آخری کنارے تک سنا جائے۔ مگر افسوس کہ اس کے فن کے سب سے بڑے ناقد اس کے اپنے گھر والے تھے۔ ابھی پہلی بانگ مکمل نہ ہوتی کہ کبھی مالک کی چپل فضا میں اڑتی، کبھی مالکن کی ڈانٹ آسمان سر پر اٹھا لیتی، اور کبھی مالک غصے میں باہر نکل کر اسے یوں بھگاتا جیسے اس نے کوئی ناقابلِ معافی جرم کر دیا ہو۔ مرغے میاں دل ہی دل میں کڑھتے، “آخر میری آواز میں خرابی کیا ہے؟ دنیا میں گلوکاروں کی قدر ہوتی ہے، شاعروں کو سنا جاتا ہے، نقارے بجائے جاتے ہیں، مگر جب میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتا ہوں تو سب کے ہاتھ پاؤں کیوں پھول جاتے ہیں؟” انہوں نے کئی مرتبہ وقت بدل کر بھی دیکھا۔ کبھی مالک کے سونے کے فوراً بعد بانگ دی، کبھی اتنی صبح اٹھے کہ خود اندھیرے میں اپنی چونچ سے راستہ ٹٹولتے پھریں، اور کبھی اس وقت آواز نکالی جب انہیں یقین تھا کہ گھر کے تمام افراد گہری نیند میں ہوں گے۔ مگر ہر مرتبہ کوئی نہ کوئی جاگ جاتا اور مرغے میاں کو اپنی آواز کا معاوضہ چپل، ڈانٹ یا بھگدڑ کی صورت میں ملتا۔ آخر ایک دن ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب انسانوں کی بستی میں رہنا ان کی عزتِ نفس کے خلاف ہے۔ “جس معاشرے میں فن کی قدر نہ ہو، وہاں فنکار کا کیا کام؟” یہ کہتے ہوئے انہوں نے گھر کی دیوار پھلانگی اور جنگل کی طرف روانہ ہو گئے۔ راستے بھر ان کے دل میں خوشی کی لہریں اٹھتی رہیں۔ وہ سوچتے، “جنگل ہی اصل آزادی کی جگہ ہے۔ وہاں نہ کوئی مالک، نہ مالکن، نہ چپل، نہ ڈانٹ۔ وہاں میں اپنی آواز کا بادشاہ ہوں گا!” ابھی وہ جنگل میں پوری طرح داخل بھی نہ ہوئے تھے کہ ایک اونچی چٹان پر چڑھ گئے۔ انہوں نے اپنے پر جھاڑے، گردن بلند کی، آنکھیں بند کیں اور برسوں کی دبی ہوئی خواہش پوری کرنے کے لیے ایسی زور دار بانگ دی کہ درختوں پر بیٹھے پرندے پھڑپھڑا کر اڑ گئے۔ مگر ابھی دوسری بانگ کی ابتدا ہی ہوئی تھی کہ جھاڑیوں میں حرکت ہونے لگی۔ کہیں سے لومڑی نکلی، کہیں سے بھیڑیا، کہیں سے جنگلی کتے، اور کچھ فاصلے پر ایک تیندوا بھی سر اٹھا کر دیکھنے لگا۔ سب کی نگاہیں مرغے پر تھیں، البتہ کسی کے چہرے پر موسیقی کا ذوق نہیں تھا۔ کسی کو ناشتہ دکھائی دے رہا تھا، کسی کو دوپہر کا کھانا اور کسی کو شام کی دعوت۔ مرغے میاں نے پہلے تو سمجھا کہ شاید ان کے فن کے مداح جمع ہو رہے ہیں، مگر جب ایک بھیڑیے نے دانت نکال کر چھلانگ لگائی تو ان کی آواز حلق ہی میں رہ گئی۔ وہ چٹان سے کودے اور جان بچا کر بھاگے۔ پیچھے درندوں کا ایک ہجوم تھا اور آگے مرغے میاں کی جان۔ کبھی وہ جھاڑیوں میں گھستے، کبھی پتھروں پر پھسلتے، کبھی پروں کو سنبھالتے اور کبھی پیچھے مڑ کر دیکھتے کہ موت کتنے قدم دور ہے۔ بڑی مشکل سے وہ ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں تعاقب کرنے والے جانور پیچھے رہ گئے۔ ہانپتے ہوئے ایک درخت کے نیچے بیٹھے تو انہیں اپنے مالک کے بیٹے کی پڑھی ہوئی ایک کہانی یاد آئی، جس میں جنگل کا بادشاہ شیر مظلوموں کو انصاف فراہم کرتا تھا۔ ان کے دل میں امید کی ایک نئی شمع روشن ہوئی۔ “اگر دنیا میں کہیں انصاف باقی ہے تو وہ بادشاہ کے دربار میں ہے!” وہ اٹھے، اپنے پر درست کیے اور شیر کے دربار کی طرف چل پڑے۔ شیر اپنے شاہی غار کے سامنے لیٹا ہوا تھا۔ مرغے کو آتے دیکھ کر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک پیدا ہوئی۔ اس نے زبان پر پھرتی پھیرتے ہوئے مرغے کو سر سے پاؤں تک دیکھا۔ اس کے ذہن میں پہلا خیال آیا کہ اتنے دنوں بعد گوشت کا ایک اچھا نوالہ ہاتھ آیا ہے۔ پھر فوراً دوسرا خیال آیا کہ کہیں یہ جانور جنگل کے کسی مذہبی اصول کے مطابق اس کے لیے ممنوع تو نہیں، اور تیسرا خیال اس سے بھی اہم تھا کہ آخر اسے کھانے سے اس کی صحت پر کیا اثر پڑے گا؟ شیر نے اپنی خواہش پر قابو پاتے ہوئے شاہانہ سنجیدگی اختیار کی اور بولا، “آؤ، آؤ!
nzeecollection.com
October 9, 2026 at 11:55 AM
محنت اور اخلاص

شہر کے ایک مصروف بازار میں ایک شخص کی چھوٹی سی دکان تھی۔ دکان بہت بڑی نہیں تھی، نہ اس پر کوئی شاندار بورڈ لگا تھا اور نہ ہی اندر کوئی غیر معمولی سجاوٹ۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ صبح دکان کھلتے ہی گاہک آنا شروع ہوجاتے اور شام تک رش کم ہونے کا نام نہ لیتا۔ کوئی اس کے ہاتھ کی بنی ہوئی چیز…
محنت اور اخلاص
شہر کے ایک مصروف بازار میں ایک شخص کی چھوٹی سی دکان تھی۔ دکان بہت بڑی نہیں تھی، نہ اس پر کوئی شاندار بورڈ لگا تھا اور نہ ہی اندر کوئی غیر معمولی سجاوٹ۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ صبح دکان کھلتے ہی گاہک آنا شروع ہوجاتے اور شام تک رش کم ہونے کا نام نہ لیتا۔ کوئی اس کے ہاتھ کی بنی ہوئی چیز لینے آتا، کوئی پرانا گاہک کسی نئے شخص کو ساتھ لے آتا اور کوئی صرف اس لیے آتا کہ اسے معلوم تھا یہاں چیز اچھی ملے گی اور دکاندار سے بات کرتے ہوئے عزت بھی ملے گی۔ اس دکاندار نے یہ مقام ایک دن میں حاصل نہیں کیا تھا۔ برسوں سے وہ اپنے کام میں لگا ہوا تھا۔ چیز کا معیار اچھا رکھتا، گاہک سے خوش اخلاقی سے پیش آتا، کسی کو دھوکا نہ دیتا، معمولی نفع پر بھی خوش ہوجاتا اور اگر کسی چیز میں خرابی نکل آتی تو گاہک کے واپس آنے سے پہلے ہی مسئلہ حل کر دیتا۔ یوں اس کی دکان صرف دکان نہیں رہی تھی، لوگوں کا اعتماد بن چکی تھی۔ اسی بازار میں ایک دوسرا شخص بھی تھا۔ وہ روز سامنے سے گزرتا اور اس دکان کا رش دیکھتا۔ شروع میں دل میں خیال آتا، "واہ!
nzeecollection.com
October 9, 2026 at 11:52 AM
ولی کامل اور لالچی آدمی

ایک مرتبہ ایک بزرگ پہاڑوں کی طرف سفر کر رہے تھے۔کچھ دور جانے کے بعد انہوں نے محسوس کیا کہ ایک آدمی مسلسل ان کے پیچھے چلا آ رہا ہے۔ بزرگ نے رک کر پوچھا: "بھائی! میرے پیچھے کیوں آ رہے ہو؟ تمہیں کیا چاہیے؟" آدمی نے بڑی عاجزی سے کہا: "حضور! بہت غریب ہوں، اگر کچھ عنایت ہو جائے…
ولی کامل اور لالچی آدمی
ایک مرتبہ ایک بزرگ پہاڑوں کی طرف سفر کر رہے تھے۔کچھ دور جانے کے بعد انہوں نے محسوس کیا کہ ایک آدمی مسلسل ان کے پیچھے چلا آ رہا ہے۔ بزرگ نے رک کر پوچھا: "بھائی! میرے پیچھے کیوں آ رہے ہو؟ تمہیں کیا چاہیے؟" آدمی نے بڑی عاجزی سے کہا: "حضور! بہت غریب ہوں، اگر کچھ عنایت ہو جائے تو زندگی سنور جائے۔"
nzeecollection.com
October 9, 2026 at 11:44 AM
بارہ شہزادیوں کا پراسرار راز

ایک تھا بادشاہ، جس کی بارہ لڑکیاں تھیں، اور سب کی سب بے حد خوبصورت تھیں۔ سب ایک ہی ساتھ رہتیں اور ایک ہی کمرے میں سوتیں، جہاں ان کی چارپائیاں برابر برابر لگی ہوئی تھیں۔ جب لڑکیاں سو جاتیں تو بادشاہ خود آ کر باہر سے کمرے کا دروازہ بند کر دیتا۔ بادشاہ کو ڈر رہتا تھا کہ…
بارہ شہزادیوں کا پراسرار راز
ایک تھا بادشاہ، جس کی بارہ لڑکیاں تھیں، اور سب کی سب بے حد خوبصورت تھیں۔ سب ایک ہی ساتھ رہتیں اور ایک ہی کمرے میں سوتیں، جہاں ان کی چارپائیاں برابر برابر لگی ہوئی تھیں۔ جب لڑکیاں سو جاتیں تو بادشاہ خود آ کر باہر سے کمرے کا دروازہ بند کر دیتا۔ بادشاہ کو ڈر رہتا تھا کہ کہیں لڑکیوں کو کوئی تکلیف نہ پہنچ جائے، اس لیے وہ ہر رات دروازہ بند کر دیتا اور صبح سویرے ہی کھولتا تھا۔
nzeecollection.com
October 9, 2026 at 6:26 AM
باپ کا آخری سبق…..

ایک صاحب نے اپنی وفات سے کچھ عرصہ پہلے اپنے بیٹے کو پاس بلایا اور کہا: "بیٹا! جب میرا انتقال ہو جائے تو میری ایک آخری خواہش ضرور پوری کرنا۔ مجھے میرے پرانے موزے پہنا کر دفن کرنا۔" بیٹے نے حیرت سے پوچھا:"ابا جان! آپ یہ کیسی خواہش کر رہے ہیں؟" والد نے صرف اتنا کہا:"وقت آنے پر تم…
باپ کا آخری سبق…..
ایک صاحب نے اپنی وفات سے کچھ عرصہ پہلے اپنے بیٹے کو پاس بلایا اور کہا: "بیٹا! جب میرا انتقال ہو جائے تو میری ایک آخری خواہش ضرور پوری کرنا۔ مجھے میرے پرانے موزے پہنا کر دفن کرنا۔" بیٹے نے حیرت سے پوچھا:"ابا جان! آپ یہ کیسی خواہش کر رہے ہیں؟" والد نے صرف اتنا کہا:"وقت آنے پر تم خود سمجھ جاؤ گے۔"
nzeecollection.com
October 9, 2026 at 6:07 AM
آخری انتظار

اصغر صاحب ریٹائرڈ سرکاری ملازم تھے۔ ساری زندگی انہوں نے اپنے بچوں کی ضروریات پوری کرنے میں گزار دی تھی۔ اب پنشن معمولی تھی، مگر دل مطمئن تھا۔ ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ سب کی شادیاں ہو چکی تھیں اور اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف تھے۔ اصغر صاحب اکثر اپنے بڑے بیٹے افضل کو فون کرتے۔…
آخری انتظار
اصغر صاحب ریٹائرڈ سرکاری ملازم تھے۔ ساری زندگی انہوں نے اپنے بچوں کی ضروریات پوری کرنے میں گزار دی تھی۔ اب پنشن معمولی تھی، مگر دل مطمئن تھا۔ ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ سب کی شادیاں ہو چکی تھیں اور اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف تھے۔ اصغر صاحب اکثر اپنے بڑے بیٹے افضل کو فون کرتے۔ "بیٹا، فرصت ملے تو گھر آ جایا کرو… تمہیں دیکھے بہت دن ہو گئے ہیں۔"
nzeecollection.com
October 9, 2026 at 4:42 AM
چار دوست

صدیوں پہلے کی بات ہے کہ ایک شہر میں چار دوست رہتے تھے۔ ان کے نام فہد، دانش، اسلم اور شجاع تھے۔ وہ چاروں اکیلے تھے، اس دنیا میں ان کا کوئی اپنا باقی نہ رہا تھا، لہذا انہوں نے اکٹھے رہنے کا فیصلہ کیا اور آپس میں تہیہ کیا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مخلص رہیں گے اور کبھی ایک دوسرے کو دھوکا نہیں…
چار دوست
صدیوں پہلے کی بات ہے کہ ایک شہر میں چار دوست رہتے تھے۔ ان کے نام فہد، دانش، اسلم اور شجاع تھے۔ وہ چاروں اکیلے تھے، اس دنیا میں ان کا کوئی اپنا باقی نہ رہا تھا، لہذا انہوں نے اکٹھے رہنے کا فیصلہ کیا اور آپس میں تہیہ کیا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مخلص رہیں گے اور کبھی ایک دوسرے کو دھوکا نہیں دیں گے۔
nzeecollection.com
October 9, 2026 at 1:10 AM
ماں کے زخمی پاؤں , بیٹے کے آنسو اور رب کی رحمت

شہر کے ایک بازار میں زاہد نام کا ایک غریب لڑکا کپڑے بیچ کر اپنی بوڑھی اور نابینا ماں کا سہارا بنا ہوا تھا۔ ایک دن ماں نے کہا: "بیٹا! میری چپل ٹوٹ گئی ہے۔ گھر سے باہر نکلتے ہوئے پاؤں میں کنکریاں چبھتی ہیں۔ اگر ممکن ہو تو میرے لیے ایک نئی چپل لے آنا۔"…
ماں کے زخمی پاؤں , بیٹے کے آنسو اور رب کی رحمت
شہر کے ایک بازار میں زاہد نام کا ایک غریب لڑکا کپڑے بیچ کر اپنی بوڑھی اور نابینا ماں کا سہارا بنا ہوا تھا۔ ایک دن ماں نے کہا: "بیٹا! میری چپل ٹوٹ گئی ہے۔ گھر سے باہر نکلتے ہوئے پاؤں میں کنکریاں چبھتی ہیں۔ اگر ممکن ہو تو میرے لیے ایک نئی چپل لے آنا۔" زاہد نے فوراً وعدہ کر لیا، مگر اگلے تین دن بازار میں اتنا مندا رہا کہ جو تھوڑے بہت پیسے ملتے، وہ صرف گھر کے کھانے کے لیے کافی ہوتے۔
nzeecollection.com
October 9, 2026 at 1:04 AM
نادان کی دوستی جی کا جنجال

ایک مالی تھا جس نے اپنی ساری عمر باغ لگانے میں صرف کی تھی ۔ اس کا باغ جنت کے کسی باغ سے کم نہ تھا۔ وہاں طرح طرح کے پھل پھول موجود تھے۔ جن کی خوشبوؤں سے دماغ معطر رہتا تھا۔ بوڑھا مالی بڑے آرام سے اس باغ میں تنہا زندگی بسر کر رہا تھا۔ آخر ایک دن وہ اپنی اس تنہائی سے گھبرا…
نادان کی دوستی جی کا جنجال
ایک مالی تھا جس نے اپنی ساری عمر باغ لگانے میں صرف کی تھی ۔ اس کا باغ جنت کے کسی باغ سے کم نہ تھا۔ وہاں طرح طرح کے پھل پھول موجود تھے۔ جن کی خوشبوؤں سے دماغ معطر رہتا تھا۔ بوڑھا مالی بڑے آرام سے اس باغ میں تنہا زندگی بسر کر رہا تھا۔ آخر ایک دن وہ اپنی اس تنہائی سے گھبرا گیا اور بے حد اداس ہوا۔ گھبرا کر ایک جنگل کی طرف چل پڑا ۔ ایک مدت تک جنگلوں میں بھٹکتا رہا۔ اچانک ایک بدصورت ، ڈراؤ نا  ریچھ جو اسی کی طرح تنہائی سے بے زرار ہو چکا تھا اور اکیلا رہتا تھا اس پہاڑ سے نیچے اترا۔ دونوں ایک دوسرے سے دو چار ہوئے اور چونکہ دونوں کی فطرت میں خباثت موجود تھی لہذا دونوں ایک دوسرے سے بہت جلد مانوس ہو گئے ۔
nzeecollection.com
October 8, 2026 at 2:22 PM
ظلم کا انجام

کسی زمانے میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اقتدار کے نشے میں وہ اتنا سخت دل ہو چکا تھا کہ غریب اور کمزور لوگ اس کے نام سے بھی خوف کھاتے تھے۔ ایک درویش نے اس کے ظلم سے تنگ آ کر دعا کی: "اے اللہ! اسے اس کے اعمال کا انجام دکھا دے۔" کچھ عرصے بعد بادشاہ کے دل میں اچانک تبدیلی آ گئی۔ اس نے…
ظلم کا انجام
کسی زمانے میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اقتدار کے نشے میں وہ اتنا سخت دل ہو چکا تھا کہ غریب اور کمزور لوگ اس کے نام سے بھی خوف کھاتے تھے۔ ایک درویش نے اس کے ظلم سے تنگ آ کر دعا کی: "اے اللہ! اسے اس کے اعمال کا انجام دکھا دے۔" کچھ عرصے بعد بادشاہ کے دل میں اچانک تبدیلی آ گئی۔ اس نے رعایا کو جمع کیا اور کہا:
nzeecollection.com
October 8, 2026 at 11:03 AM
سیلز مین شپ۔

ایک سیدھا سادا لڑکا نوکری کی تلاش میں فلوریڈا آیا اور ایک بہت بڑے ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں پہنچا، جہاں ایک ہی چھت کے نیچے ہر قسم کا سامان ملتا تھا۔اسٹور کے مینجرنے اس سے پوچھا، "کیا تمہارے پاس سیلز کا کوئی تجربہ ہے؟"لڑکے نے مسکرا کر جواب دیا، "جی بالکل، میں اپنے علاقے میں ویکیوم کلینر…
سیلز مین شپ۔
ایک سیدھا سادا لڑکا نوکری کی تلاش میں فلوریڈا آیا اور ایک بہت بڑے ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں پہنچا، جہاں ایک ہی چھت کے نیچے ہر قسم کا سامان ملتا تھا۔اسٹور کے مینجرنے اس سے پوچھا، "کیا تمہارے پاس سیلز کا کوئی تجربہ ہے؟"لڑکے نے مسکرا کر جواب دیا، "جی بالکل، میں اپنے علاقے میں ویکیوم کلینر بیچا کرتا تھا۔"
nzeecollection.com
October 8, 2026 at 5:12 AM
عبادت کا راز

ایک عابد نے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے چالیس دن کا چلہ کیا۔ دن کو روزہ رکھتا، رات بھر عبادت میں مشغول رہتا۔ اعتکاف کی وجہ سے وہ دنیا کے لوگوں سے بالکل الگ تھلگ ہو گیا تھا۔ اس کا ہر لمحہ دعا، تلاوت اور گریہ و زاری میں گزرتا تھا۔ چھتیسویں رات اسے ایک غیبی آواز سنائی دی:
عبادت کا راز
ایک عابد نے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے چالیس دن کا چلہ کیا۔ دن کو روزہ رکھتا، رات بھر عبادت میں مشغول رہتا۔ اعتکاف کی وجہ سے وہ دنیا کے لوگوں سے بالکل الگ تھلگ ہو گیا تھا۔ اس کا ہر لمحہ دعا، تلاوت اور گریہ و زاری میں گزرتا تھا۔ چھتیسویں رات اسے ایک غیبی آواز سنائی دی:
nzeecollection.com
October 8, 2026 at 2:52 AM
نیک بیوی کا ایسا سبق جو زندگی بدل گیا

ایک عرب شخص اپنی انتہائی بوڑھی ماں کے ساتھ سفر کرتا تھا۔ بڑھاپے کی وجہ سے ماں کی یادداشت کمزور ہو گئی تھی، اس لیے وہ اکثر خیمے سے باہر نکل جاتی۔ بیٹے کو یہ بات بوجھ لگنے لگی۔ ایک دن قبیلے نے دوسری جگہ منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔ اس شخص نے اپنی بیوی سے کہا: "کل…
نیک بیوی کا ایسا سبق جو زندگی بدل گیا
ایک عرب شخص اپنی انتہائی بوڑھی ماں کے ساتھ سفر کرتا تھا۔ بڑھاپے کی وجہ سے ماں کی یادداشت کمزور ہو گئی تھی، اس لیے وہ اکثر خیمے سے باہر نکل جاتی۔ بیٹے کو یہ بات بوجھ لگنے لگی۔ ایک دن قبیلے نے دوسری جگہ منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔ اس شخص نے اپنی بیوی سے کہا: "کل روانگی کے وقت میری ماں کو یہیں چھوڑ دینا۔ اس کے پاس پانی اور کھانا رکھ دینا، شاید کوئی اسے سنبھال لے۔"
nzeecollection.com
October 7, 2026 at 8:04 PM
😂 پینسل نے سارا راز کھول دیا!

ایک صاحب دفتر سے فارغ ہوئے تو اپنی سیکریٹری کو ساتھ لے کر ہوٹل میں کھانا کھانے چلے گئے۔ کھانے کے بعد دونوں نے فلم دیکھنے کا پروگرام بنایا، اور فلم ختم ہونے پر صاحب سیکریٹری کے گھر بھی چلے گئے۔رات کافی گزرنے کے بعد جب صاحب رخصت ہونے لگے تو انہوں نے سیکریٹری سے کہا:"ایک…
😂 پینسل نے سارا راز کھول دیا!
ایک صاحب دفتر سے فارغ ہوئے تو اپنی سیکریٹری کو ساتھ لے کر ہوٹل میں کھانا کھانے چلے گئے۔ کھانے کے بعد دونوں نے فلم دیکھنے کا پروگرام بنایا، اور فلم ختم ہونے پر صاحب سیکریٹری کے گھر بھی چلے گئے۔رات کافی گزرنے کے بعد جب صاحب رخصت ہونے لگے تو انہوں نے سیکریٹری سے کہا:"ایک پینسل مل سکتی ہے؟"
nzeecollection.com
October 7, 2026 at 7:50 PM
بادشاہ اور حکیم

ایک بادشاہ اپنے مُنہ زور گھوڑے پر سوار تھا.گھوڑا کسی وجہ سے بدکا تو بادشاہ سر کے بل زمین پر گر گیا،اور!اس کی گردن کی ھڈی کے مُہرے ہل گئے،اب وہ گردن کو حرکت دینے پر بھی قادر نہ رہا.شاہی طبیبوں نے اپنی طرف سے سر توڑ کوششیں کیں،مگر!وہ بادشاہ کا علاج نہ کر سکے،
بادشاہ اور حکیم
ایک بادشاہ اپنے مُنہ زور گھوڑے پر سوار تھا.گھوڑا کسی وجہ سے بدکا تو بادشاہ سر کے بل زمین پر گر گیا،اور!اس کی گردن کی ھڈی کے مُہرے ہل گئے،اب وہ گردن کو حرکت دینے پر بھی قادر نہ رہا.شاہی طبیبوں نے اپنی طرف سے سر توڑ کوششیں کیں،مگر!وہ بادشاہ کا علاج نہ کر سکے،
nzeecollection.com
October 7, 2026 at 5:42 PM
ولی کامل اور لالچی آدمی …. ایک دلچسپ کہانی

ایک ولی کامل پہاڑوں میں نکل گیا۔ پیچھے دیکھا ایک آدمی آ رہا تھا۔ آپ نے پوچھا:کیا چاہیے؟؟ آدمی نے کہا: غریب ہوں، کچھ عنایت فرمائیں۔ آپ نے پہاڑ کی طرف انگلی اٹھائی، پہاڑ سونے کا ہو گیا۔ آپ چل پڑے۔ دیکھا وہ آدمی پھر پیچھے آ رہا ہے۔ آپ نے پوچھا:اب کیا چاہیے؟…
ولی کامل اور لالچی آدمی …. ایک دلچسپ کہانی
ایک ولی کامل پہاڑوں میں نکل گیا۔ پیچھے دیکھا ایک آدمی آ رہا تھا۔ آپ نے پوچھا:کیا چاہیے؟؟ آدمی نے کہا: غریب ہوں، کچھ عنایت فرمائیں۔ آپ نے پہاڑ کی طرف انگلی اٹھائی، پہاڑ سونے کا ہو گیا۔ آپ چل پڑے۔ دیکھا وہ آدمی پھر پیچھے آ رہا ہے۔ آپ نے پوچھا:اب کیا چاہیے؟ عرض کیا: تھوڑا ہے۔
nzeecollection.com
October 7, 2026 at 4:39 PM