تمہاری جسم کی خوشبو سے میں واقف ہوں
تمہاری سانسوں کی مہک میں محسوس کر سکتا ہوں
اور تمہارے بدن کے سارے تل میں نے گن رکھے ہیں
یقین مانو
تمہارے تکئیے پر رہ جانے والے بال اکثر
صبح میرے بستر سے ملتے ہیں ♥️
تمہاری جسم کی خوشبو سے میں واقف ہوں
تمہاری سانسوں کی مہک میں محسوس کر سکتا ہوں
اور تمہارے بدن کے سارے تل میں نے گن رکھے ہیں
یقین مانو
تمہارے تکئیے پر رہ جانے والے بال اکثر
صبح میرے بستر سے ملتے ہیں ♥️
میری آنکھیں تمہیں کبھی دیکھ نہیں پائیں
میرے ہاتھ کبھی تمہیں چھو نہیں پائے
میرے لبوں نے کبھی تمہیں چوما نہیں
لیکن پھر بھی
تمہارا عکس
میرے ذہن میں ہے
تمہارے ہونٹوں کے ذائقے سے میں آشنا ہوں
تمہاری آنکھوں کی چمک میں جانتا ہوں
تمہاری زلف کا میں اسیر ہوں
میری آنکھیں تمہیں کبھی دیکھ نہیں پائیں
میرے ہاتھ کبھی تمہیں چھو نہیں پائے
میرے لبوں نے کبھی تمہیں چوما نہیں
لیکن پھر بھی
تمہارا عکس
میرے ذہن میں ہے
تمہارے ہونٹوں کے ذائقے سے میں آشنا ہوں
تمہاری آنکھوں کی چمک میں جانتا ہوں
تمہاری زلف کا میں اسیر ہوں
اس نے انگلی سے لٹ کو چھوتے ہوئی سرگوشی کی
اچھا ؟ وہ اترائی
اور میں ؟
تم لاعلاج کو مسیحا کے جیسی ہو
✨️🦋_____
اس نے انگلی سے لٹ کو چھوتے ہوئی سرگوشی کی
اچھا ؟ وہ اترائی
اور میں ؟
تم لاعلاج کو مسیحا کے جیسی ہو
✨️🦋_____
بہکا ہوا انسان
گلاب سے زیادہ دلکش اور پیارا ہوتا
تمہاری بانہوں میں آ کر
تمہارے لمس سے بہکے ہوئے ھم
فقط آنکھیں چومنے کی اجازت پا کر
آپ کے ہونٹوں پر بھی بوسہ دے دوں
خفا ہونے کے بجائے میری اس دلکشی اور
بہکے ہوئے پن کو
اپنی زندگی کے بہترین لمحات میں شمار کرو گے
بہکا ہوا انسان
گلاب سے زیادہ دلکش اور پیارا ہوتا
تمہاری بانہوں میں آ کر
تمہارے لمس سے بہکے ہوئے ھم
فقط آنکھیں چومنے کی اجازت پا کر
آپ کے ہونٹوں پر بھی بوسہ دے دوں
خفا ہونے کے بجائے میری اس دلکشی اور
بہکے ہوئے پن کو
اپنی زندگی کے بہترین لمحات میں شمار کرو گے
اے لیل البدر تم سے اظہار محبت کے لیے
یہ دنیا اور سبھی مقامات سرسری ہیں
رب ذوالجلال کی قسم میرا بس چلتا تم سے
اظہار محبت کے لیے زمانے سے سے جدا
جگہوں کو منتخب کرتا
جہاں دو دریا ملتے !
یعنی سنگم باہم ملنا شدت سے ٹکرا جانا
یونہی تم میں حل پزیر ہونے کی خواہش ھے
اے لیل البدر تم سے اظہار محبت کے لیے
یہ دنیا اور سبھی مقامات سرسری ہیں
رب ذوالجلال کی قسم میرا بس چلتا تم سے
اظہار محبت کے لیے زمانے سے سے جدا
جگہوں کو منتخب کرتا
جہاں دو دریا ملتے !
یعنی سنگم باہم ملنا شدت سے ٹکرا جانا
یونہی تم میں حل پزیر ہونے کی خواہش ھے