Pakistan Affairs
banner
pakistanaffairs.bsky.social
Pakistan Affairs
@pakistanaffairs.bsky.social
Find news, multimedia, reviews, and opinions on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, etc....
https://facebook.com/kufarooq
https://twitter.com/kufarooq
https://instagram.com/kufarooq
کیا آئی سی سی کا مطلب انڈین کرکٹ کلب ہے؟

پاکستان نے اپنی کرکٹ ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازت تو دے دی ہے مگر بھارت کے خلاف میچ کھیلنے سے روک دیا ہے۔ حکومت پاکستان کے اس فیصلے کو ملکی سطح پر بہت سراہا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کو اس لیے بھی سراہا جا رہا ہے کہ اکثر لوگ یہ سوچ رہے تھے اگر…
کیا آئی سی سی کا مطلب انڈین کرکٹ کلب ہے؟
پاکستان نے اپنی کرکٹ ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازت تو دے دی ہے مگر بھارت کے خلاف میچ کھیلنے سے روک دیا ہے۔ حکومت پاکستان کے اس فیصلے کو ملکی سطح پر بہت سراہا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کو اس لیے بھی سراہا جا رہا ہے کہ اکثر لوگ یہ سوچ رہے تھے اگر پاکستان نے T-20 ورلڈ کپ میں شرکت سے انکار کر دیا تو یہ فیصلہ کرکٹ کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہو گا۔ البتہ T-20 ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کے فیصلے سے بھارتی حکومت بہت خوش ہوتی کیونکہ وہ تو پاکستان کو عالمی کرکٹ سے بے دخل کرنے کے پہلے سے منصوبے بنا رہی ہے۔ اب پاکستان کے صائب فیصلے سے جہاں ملکی سطح پر خوشگوار تاثر پیدا ہوا ہے وہاں بھارت میں صف ماتم بچھ گئی ہے۔ بھارتی تبصرہ نگاروں کے مطابق پاکستان کے فیصلے سے کرکٹ کے کھیل کو نقصان پہنچا ہے اور T-20 ورلڈ کپ میں کشیدگی اور غیر یقینی صورت حال پیدا کر دی ہے جب کہ پاکستانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کا فیصلہ اصولی ہے اور مساوی سلوک کی بنیاد پر مبنی ہے۔
harfhaqq.wordpress.com
April 30, 2026 at 9:19 PM
بلوچستان کے اپنوں کی یہ خاموشی

بلوچستان ایک بار پھر دشمن کے ناپاک عزائم کا نشانہ بنا۔ کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، خاران، پنجگور، گوادر اور پسنی سمیت نو شہروں میں بیک وقت حملے کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ یہ ایک منظم، مربوط اور واضح طور پر ریاستِ پاکستان کیخلاف اعلانِ جنگ تھا۔ بازار، جیلیں، تھانے، بینک،…
بلوچستان کے اپنوں کی یہ خاموشی
بلوچستان ایک بار پھر دشمن کے ناپاک عزائم کا نشانہ بنا۔ کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، خاران، پنجگور، گوادر اور پسنی سمیت نو شہروں میں بیک وقت حملے کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ یہ ایک منظم، مربوط اور واضح طور پر ریاستِ پاکستان کیخلاف اعلانِ جنگ تھا۔ بازار، جیلیں، تھانے، بینک، سرکاری دفاتر اور مزدوروں کے کیمپ نشانہ بنائے گئے۔ عورتیں، بچے اور محنت کش بے دردی سے قتل کیے گئے۔ یہ دہشت گردی نہیں، کھلی بربریت تھی اور اس کے پیچھے دشمن کے ہاتھ ہونے میں اب کوئی ابہام نہیں رہا۔ سیکیورٹی فورسز، پولیس، سی ٹی ڈی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جس جرات، قربانی اور پیشہ ورانہ مہارت سے اس یلغار کا مقابلہ کیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔ درجنوں خودکش اور مسلح دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، کلیئرنس آپریشن کے ذریعے ریاستی رٹ بحال کی گئی۔ اس جنگ میں ہمارے 15 سیکیورٹی اہلکار اور 18 معصوم شہری شہید ہوئے۔ دہشت گرد پاکستان کے دشمن ہیں، بلوچستان کے دشمن ہیں، بلوچستان میں رہنے والوں کی ترقی، اُن کی تعلیم، اُن کے سکون کے دشمن ہیں۔ ان دہشتگردوں کیلئے کسی نرم رویہ کی گنجائش نہیں۔ …
harfhaqq.wordpress.com
April 30, 2026 at 9:19 PM
صرف عمران خان کیلئے

گزشتہ انتخابات سے پہلے میں اُن لوگوں میں سے تھا جو کہتے رہے کہ تحریک انصاف کو مقبولیت کے باوجود جیتنے نہیں دیا جائے گا کیوں کہ عمران خان نے لڑائی اسٹیبلشمنٹ ہی نہیں بلکہ فوج کے ساتھ لے لی ہے۔ میں اس لڑائی کے ہمیشہ خلاف رہا کیوں کہ ایک طرف فوج اور دوسری طرف پاکستان کی مقبول…
صرف عمران خان کیلئے
گزشتہ انتخابات سے پہلے میں اُن لوگوں میں سے تھا جو کہتے رہے کہ تحریک انصاف کو مقبولیت کے باوجود جیتنے نہیں دیا جائے گا کیوں کہ عمران خان نے لڑائی اسٹیبلشمنٹ ہی نہیں بلکہ فوج کے ساتھ لے لی ہے۔ میں اس لڑائی کے ہمیشہ خلاف رہا کیوں کہ ایک طرف فوج اور دوسری طرف پاکستان کی مقبول جماعت اور اُس کا رہنما۔ ایسی لڑائی پاکستان کے مفاد میں نہیں ہو سکتی۔ اسی لیے اس لڑائی کو ختم کرنے کیلئے بار بار میں کہتا رہا لیکن کسی نے نہ سنی۔ الیکشن 2024 بلاشبہ بہت دھاندلی زدہ تھے اور ان کا مقصد تحریک انصاف کو ہرانا تھا۔ ایسا ہی ہوا کیوں کہ مقبولیت کی قبولیت نہ ہونے کی وجہ سے تحریک انصاف کو اقتدار نہ ملا اور فارم 47 نے مقبولیت کی جگہ قبولیت کے فارمولے کو حقیقت بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور یوں تحریک انصاف صرف خیبر پختونخوامیں ہی حکومت بنا سکی۔ افسوس کہ عمران خان اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد ’’ٹکر والے لوگ‘‘ کے ڈائیلاگ سے بہت زیادہ متاثر رہے اور’’ٹکر‘‘ کے جوش میں اتنا آگے نکل گئے کہ فوج ، جسے عمران خان پاکستان کی سالمیت کا ضامن قرار دیتے رہے، کے خلاف 9 مئی بھی ہو گیا، اپنی ہی فوج کے خلاف اتنی نفرت کے بیج بو دیے گئے کہ شہیدوں تک کا مذاق اُڑایا گیا۔ …
harfhaqq.wordpress.com
April 30, 2026 at 9:18 PM
پنجاب کا نیا نام – صوبہ مریم و نواز

ایسا لگتا ہے کہ پنجاب اب ایک صوبے کی بجائے خاندانی جاگیر میں تبدیل ہو رہا ہے۔ بہتر ہو گا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز صاحبہ باقاعدہ اعلان کر دیں کہ پنجاب کا نام بدل کر ’’صوبہ مریم ونواز‘‘ رکھ دیا گیا ہے۔ جب ہر دوسرا منصوبہ یا تو نواز شریف کے نام سے منسوب ہو یا مریم…
پنجاب کا نیا نام – صوبہ مریم و نواز
ایسا لگتا ہے کہ پنجاب اب ایک صوبے کی بجائے خاندانی جاگیر میں تبدیل ہو رہا ہے۔ بہتر ہو گا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز صاحبہ باقاعدہ اعلان کر دیں کہ پنجاب کا نام بدل کر ’’صوبہ مریم ونواز‘‘ رکھ دیا گیا ہے۔ جب ہر دوسرا منصوبہ یا تو نواز شریف کے نام سے منسوب ہو یا مریم نواز کے، تو پھر پنجاب کو اپنے نام سے ہی منسوب کر دیں۔ ابھی کل ہی خبر آئی کہ لاہور کے جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا نام تبدیل کر کے’’مریم نواز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی‘‘رکھ دیا گیا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ صرف ایک نام کی تبدیلی نہیں، بلکہ ایک سوچ کی عکاسی ہے۔ وہ سوچ جو سمجھتی ہے کہ عوامی خدمت بھی ذاتی تشہیر کا ذریعہ ہونی چاہیے۔ نواز شریف اور مریم نواز کے نام پہلے ہی کئی پرانے اور نئے پرجیکٹس منسوب کیے جا چکے ہیں۔ وی نیوز (WeNews) کے مطابق حال ہی میں مریم نواز حکومت کی طرف سے سال 2025-26 کا 5300 ارب روپے کا جو بجٹ پیش کیا گیا، اس میں 13 نئے پراجیکٹس کا نام میں نواز شریف اور مریم نواز کے نام سے منسوب کیا گیا۔ یعنی اصل’’خدمت‘‘ تختیوں میں کی گئی ہے۔ نواز شریف کے نام پر سات اور مریم نواز کے نام پر چھ منصوبے رکھے گئے ہیں۔ گویا تختیاں گنیں تو کارکردگی خود بخود ظاہر ہو جائے۔
harfhaqq.wordpress.com
April 30, 2026 at 9:18 PM
عمران کی ’’مقبولیت‘‘ کا راز

پاکستان کی پوری سیاسی تاریخ میں کبھی سرکاری بیانیہ کوعوامی پذیرائی حاصل نہیں ہوئی تو اب کیسے حاصل ہو گی۔ عمران خان کی مقبولیت کو جو عروج آج حاصل ہے اُس کی ایک بہت بڑی وجہ عدم اعتماد کی تحریک سے لے کر آج تک کی مسلم لیگ (ن) اور مقتدرہ کی حکمت عملی ہے جس میں ایک مرکزی…
عمران کی ’’مقبولیت‘‘ کا راز
پاکستان کی پوری سیاسی تاریخ میں کبھی سرکاری بیانیہ کوعوامی پذیرائی حاصل نہیں ہوئی تو اب کیسے حاصل ہو گی۔ عمران خان کی مقبولیت کو جو عروج آج حاصل ہے اُس کی ایک بہت بڑی وجہ عدم اعتماد کی تحریک سے لے کر آج تک کی مسلم لیگ (ن) اور مقتدرہ کی حکمت عملی ہے جس میں ایک مرکزی کردار سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ہیں اور 2018ء سے 2021ء تک عمران حکومت کا گراف نیچے لانے کے مرکزی کردار سابق ISI چیف جنرل فیض حمید ہیں اور 9 مئی کی جب اصل کہانی کھلے گی تو امکان اسی بات کا ہے کہ کئی راز افشا ہو سکتے ہیں اندرون خانہ بھی اور بیرونی کرداروں کے بارے میں بھی۔ عمران کی مقبولیت کی ابتدا 30 اکتوبر 2011ء کو مینار پاکستان کے جلسے سے ہوتی ہے مگر اسکے سیاسی تقابل کا جائز ہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ جہاں اُس وقت کی مقتدرہ کے تعلقات شریف برادران سے کشیدہ ہو گئے تھے یا ہونا شروع ہوئے تھے مگر اس کی وجوہ خاص طور پر پنجاب اور خیبر پختونخوا میں اور بھی تھیں۔ پہلے کے پی چلتے ہیں یہ سال 2002ء کی بات ہے جنرل پرویز مشرف نے اچانک عام انتخابات کا اعلان کر دیا اُس سے پہلے اپنی مقبولیت جانچنے کیلئے ریفرنڈم کروایا ۔ …
harfhaqq.wordpress.com
April 30, 2026 at 9:18 PM
شہر ایسے ہیں کہ تنہا نہیں رہنے دیتے

آج عالمی یومِ البلاد (اکتیس اکتوبر) ہے۔ یہ دن دو ہزار چودہ سے منایا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد شہری زندگی کو ماحولیات دوست بنانا، پسماندہ شہری علاقوں میں تعلیم و صحت سمیت بنیادی سہولتوں کی معیاری بہم رسانی کہ جن کے ذریعے ہر شہری کو اپنی اپنی صلاحیتیں بروئے کار لاتے…
شہر ایسے ہیں کہ تنہا نہیں رہنے دیتے
آج عالمی یومِ البلاد (اکتیس اکتوبر) ہے۔ یہ دن دو ہزار چودہ سے منایا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد شہری زندگی کو ماحولیات دوست بنانا، پسماندہ شہری علاقوں میں تعلیم و صحت سمیت بنیادی سہولتوں کی معیاری بہم رسانی کہ جن کے ذریعے ہر شہری کو اپنی اپنی صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے ذاتی زندگی اور اردگرد کو بہتر بنانے کا موقع اور تسکین مل سکے۔ شہر ہی کسی ملک کی مادی و تمدنی ترقی کا انجن ہیں ۔ انجن کی دیکھ بھال بہتر ہو گی تو معاشی و سماجی ترقی کی ٹرین بھی بہتر طور پر آگے بڑھ پائے گی۔ اس وقت عالمی آبادی آٹھ ارب ہے۔ یہ دو ہزار پچاس تک لگ بھگ دس ارب اور صدی کے اختتام تک بارہ ارب تک پہنچ جائے گی۔ دو ہزار پچاس تک آبادی میں جتنا بھی اضافہ ہو گا۔ اس کا نصف صرف نو ممالک میں ہو گا۔ (بھارت ، نائجیریا ، پاکستان ، کانگو ، ایتھوپیا ، تنزانیہ، انڈونیشیا ، مصر ، امریکا )۔ اس عرصے میں صحارا پار بیس افریقی ممالک کی آبادی دگنی جب کہ یورپ کی آبادی کم ہو جائے گی۔ پچھلی دو دہائیوں میں اوسطاً تین فیصد عالمی آبادی نے مقامی یا بیرونی نقلِ مکانی کی ہے۔ اس کی تین بنیادی وجوہات ہے۔ بدامنی ، معیشت اور ماحولیاتی تبدیلیاں۔ آنے والے برسوں میں نقلِ مکانی کا سب سے بڑا محرک ماحولیاتی تبدیلیاں ہوں گی۔
harfhaqq.wordpress.com
April 30, 2026 at 9:18 PM
یحییٰ سنوار، حماس سربراہ کون ہیں؟

فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ یحییٰ سنوار ایک سخت اور پُرعزم جنگجو شخصیت کے مالک ہیں جو اسرائیل کے خلاف فلسطینی تحریک میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ پس منظر اور ابتدائی زندگییحییٰ سنوار 1962 میں غزہ پٹی کے شہر خان یونس میں پیدا ہوئے۔ انکا…
یحییٰ سنوار، حماس سربراہ کون ہیں؟
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ یحییٰ سنوار ایک سخت اور پُرعزم جنگجو شخصیت کے مالک ہیں جو اسرائیل کے خلاف فلسطینی تحریک میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ پس منظر اور ابتدائی زندگییحییٰ سنوار 1962 میں غزہ پٹی کے شہر خان یونس میں پیدا ہوئے۔ انکا تعلق ایک غریب فلسطینی خاندان سے ہے اور بچپن ہی سے انہوں نے اسرائیل کے خلاف فلسطینی جدوجہد میں حصہ لیا۔ حماس سربراہ کی جوانی 1980 کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں گزری، جو فلسطین کی آزادی کے لیے ایک اہم دور سمجھا جاتا ہے۔
harfhaqq.wordpress.com
April 30, 2026 at 9:18 PM
قومی اداروں کی نجکاری

ملک کی معیشت کا حال مت پوچھیے۔ بظاہر اصلاح کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی۔ بقولِ غالبؔ :کوئی امید بر نہیں آتیکوئی صورت نظر نہیں آتیحالت یہ ہے کہ ڈاکٹروں پر ڈاکٹر تبدیل کیے جا رہے ہیں، لیکن مریض کی حالت ہے کہ بہتر ہونے کے بجائے مزید بگڑتی جا رہی ہے۔ مختلف قومی ادارے جو کبھی…
قومی اداروں کی نجکاری
ملک کی معیشت کا حال مت پوچھیے۔ بظاہر اصلاح کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی۔ بقولِ غالبؔ :کوئی امید بر نہیں آتیکوئی صورت نظر نہیں آتیحالت یہ ہے کہ ڈاکٹروں پر ڈاکٹر تبدیل کیے جا رہے ہیں، لیکن مریض کی حالت ہے کہ بہتر ہونے کے بجائے مزید بگڑتی جا رہی ہے۔ مختلف قومی ادارے جو کبھی آمدنی کا بہت بڑا ذریعہ ہوا کرتے تھے، ملک کی معیشت کے لیے بوجھ بن چکے ہیں۔ سب سے بڑی مثال قومی ایئر لائن پی آئی اے کی ہے جس کا سلوگن ہوا کرتا تھا Great people to fly with ملک کے ہی نہیں غیر ملکی مسافر بھی پی آئی اے سے سفر کرنے پر فخر کیا کرتے تھے۔ یہ وہ ایئر لائن تھی جس نے کئی مشہور غیر ملکی ایئر لائنوں کو جنم دیا تھا جو آج پھل پھول رہی ہیں۔ وقت کی پابندی کا عالم یہ تھا کہ پی آئی اے کی پرواز سے لوگ اپنی گھڑیاں ملایا کرتے تھے۔ دورانِ پرواز مسافروں کی جو خاطر تواضع کی جاتی تھی اب وہ قصہ پارینہ ہے۔ ایئر مارشل نور خان (مرحوم) کی یاد بُری طرح ستا رہی ہے جنھوں نے اِس پودے کی اپنے خون سے آبیاری کی جس کے نتیجے میں یہ پودا ایک تناور درخت بن گیا۔ …
harfhaqq.wordpress.com
April 30, 2026 at 9:18 PM
کیا تحریک انصاف کو اس کے وکیلوں نے مروایا؟

تحریک انصاف کے کارکنان اور مداح اگر عدلیہ اور الیکشن کمیشن کو سخت سست کہہ کر اپنا کتھارسس فرما چکے ہوں تو انہیں اس سوال پر بھی غور فرما لینا چاہیے کہ ان کی جماعت کو اس حال تک پہنچانے میں خود ان کے وکیلوں نے کتنا اہم کردار ادا کیا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ…
کیا تحریک انصاف کو اس کے وکیلوں نے مروایا؟
تحریک انصاف کے کارکنان اور مداح اگر عدلیہ اور الیکشن کمیشن کو سخت سست کہہ کر اپنا کتھارسس فرما چکے ہوں تو انہیں اس سوال پر بھی غور فرما لینا چاہیے کہ ان کی جماعت کو اس حال تک پہنچانے میں خود ان کے وکیلوں نے کتنا اہم کردار ادا کیا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ عمران خان کے وکیلوں نے بھی وہی غلطی کی ہو جو بھٹو مرحوم کے وکیلوں نے کی تھی ؟ بھٹو صاحب کے وکیلوں سے یہ بنیادی غلطی ہوئی کہ وہ اس مقدمے کو اس سنجیدگی سے لے ہی نہ سکے جس سے لینا چاہیے تھا۔ بھٹو کیس کی فائل پڑھتے ہوئے بار بار یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ مقدمہ اس سے بہت بہتر انداز سے لڑا جا سکتا تھا۔ ان کے وکیل اسی غلط فہمی میں رہے کہ بھٹو کی مقبولیت کے سیلاب کے آ گے ان قانونی موشگافیوں کی کیا حیثیت ہے، وہ ان سب کو بہا لے جائے گی۔ ان کے اندازے کی یہ غلطی ان کے موکل کے لیے بہت مہلک ثابت ہوئی۔ یہی غلطی عمران خان کے وکیلوں سے ہوئی۔ انہوں نے الیکشن کمیشن اور الیکشن ایکٹ وغیرہ کو کبھی سنجیدگی سے لیا ہی نہیں۔ وہ فارن فنڈنگ کیس ہو یا انٹرا پارٹی الیکشن کا، ان کے خیال میں اس سب کی کوئی حیثیت نہیں تھی اور ان کے لاشعور میں کہیں یہ تھا کہ عمران خان کی مقبولیت اس سب کو بہا کر لے جائے گی۔ اندازے کی یہ غلطی تحریک انصاف کو بہت مہنگی پڑی۔
harfhaqq.wordpress.com
April 30, 2026 at 9:17 PM
ہے کسی کو خودکشیوں کا احساس

ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ دس سالوں میں ملک میں خودکشیوں کی شرح 20 فی صد بڑھ گئی ہے جس کی وجہ سیاسی و معاشی حالات، جنگیں، غربت، ہوش ربا مہنگائی، بے روزگاری، لاقانونیت اور ذہنی امراض ہیں۔ موجودہ حالات کے باعث بچوں میں ذہنی امراض کا بڑھنا تشویش ناک ہو چکا ہے۔ خبر کے…
ہے کسی کو خودکشیوں کا احساس
ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ دس سالوں میں ملک میں خودکشیوں کی شرح 20 فی صد بڑھ گئی ہے جس کی وجہ سیاسی و معاشی حالات، جنگیں، غربت، ہوش ربا مہنگائی، بے روزگاری، لاقانونیت اور ذہنی امراض ہیں۔ موجودہ حالات کے باعث بچوں میں ذہنی امراض کا بڑھنا تشویش ناک ہو چکا ہے۔ خبر کے مطابق ملک میں موجودہ صورت حال میں میرٹ کا قتل، حکومت اور سرکاری اداروں پر لوگوں کا عدم اعتماد، سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال اور سوشل سسٹم کا کمزور ہونا بھی شامل ہے۔ ہر طرف سے مایوس افراد اپنے حالات کسی سے شیئر نہیں کرتے، سماجی تنہائی بڑھ گئی ہے، والدین اپنے بچوں کو موبائل اور ٹی وی کارٹونوں کا عادی بنا کر تنہائی کا شکار بنا رہے ہیں۔ لوگوں میں چڑچڑاہٹ، غصہ اور ڈپریشن سے بھی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ملک کی سیاسی پارٹیوں، اقتدار کے خواہش مند سیاستدانوں اور آئین پر عمل اور نوے روز میں ہر حال میں الیکشن کرانے کے حامی اینکر اور صحافیوں کا بھی سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے مگر خود کشیوں کی شرح میں بیس فی صد اضافے کی کسی کو فکر نہیں۔ …
harfhaqq.wordpress.com
April 30, 2026 at 9:17 PM
کیا آئی سی سی کا مطلب انڈین کرکٹ کلب ہے؟

پاکستان نے اپنی کرکٹ ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازت تو دے دی ہے مگر بھارت کے خلاف میچ کھیلنے سے روک دیا ہے۔ حکومت پاکستان کے اس فیصلے کو ملکی سطح پر بہت سراہا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کو اس لیے بھی سراہا جا رہا ہے کہ اکثر لوگ یہ سوچ رہے تھے اگر…
کیا آئی سی سی کا مطلب انڈین کرکٹ کلب ہے؟
پاکستان نے اپنی کرکٹ ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازت تو دے دی ہے مگر بھارت کے خلاف میچ کھیلنے سے روک دیا ہے۔ حکومت پاکستان کے اس فیصلے کو ملکی سطح پر بہت سراہا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کو اس لیے بھی سراہا جا رہا ہے کہ اکثر لوگ یہ سوچ رہے تھے اگر پاکستان نے T-20 ورلڈ کپ میں شرکت سے انکار کر دیا تو یہ فیصلہ کرکٹ کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہو گا۔ البتہ T-20 ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کے فیصلے سے بھارتی حکومت بہت خوش ہوتی کیونکہ وہ تو پاکستان کو عالمی کرکٹ سے بے دخل کرنے کے پہلے سے منصوبے بنا رہی ہے۔ اب پاکستان کے صائب فیصلے سے جہاں ملکی سطح پر خوشگوار تاثر پیدا ہوا ہے وہاں بھارت میں صف ماتم بچھ گئی ہے۔ بھارتی تبصرہ نگاروں کے مطابق پاکستان کے فیصلے سے کرکٹ کے کھیل کو نقصان پہنچا ہے اور T-20 ورلڈ کپ میں کشیدگی اور غیر یقینی صورت حال پیدا کر دی ہے جب کہ پاکستانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کا فیصلہ اصولی ہے اور مساوی سلوک کی بنیاد پر مبنی ہے۔
harfhaqq.wordpress.com
February 9, 2026 at 12:34 PM
بلوچستان کے اپنوں کی یہ خاموشی

بلوچستان ایک بار پھر دشمن کے ناپاک عزائم کا نشانہ بنا۔ کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، خاران، پنجگور، گوادر اور پسنی سمیت نو شہروں میں بیک وقت حملے کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ یہ ایک منظم، مربوط اور واضح طور پر ریاستِ پاکستان کیخلاف اعلانِ جنگ تھا۔ بازار، جیلیں، تھانے، بینک،…
بلوچستان کے اپنوں کی یہ خاموشی
بلوچستان ایک بار پھر دشمن کے ناپاک عزائم کا نشانہ بنا۔ کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، خاران، پنجگور، گوادر اور پسنی سمیت نو شہروں میں بیک وقت حملے کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ یہ ایک منظم، مربوط اور واضح طور پر ریاستِ پاکستان کیخلاف اعلانِ جنگ تھا۔ بازار، جیلیں، تھانے، بینک، سرکاری دفاتر اور مزدوروں کے کیمپ نشانہ بنائے گئے۔ عورتیں، بچے اور محنت کش بے دردی سے قتل کیے گئے۔ یہ دہشت گردی نہیں، کھلی بربریت تھی اور اس کے پیچھے دشمن کے ہاتھ ہونے میں اب کوئی ابہام نہیں رہا۔ سیکیورٹی فورسز، پولیس، سی ٹی ڈی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جس جرات، قربانی اور پیشہ ورانہ مہارت سے اس یلغار کا مقابلہ کیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔ درجنوں خودکش اور مسلح دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، کلیئرنس آپریشن کے ذریعے ریاستی رٹ بحال کی گئی۔ اس جنگ میں ہمارے 15 سیکیورٹی اہلکار اور 18 معصوم شہری شہید ہوئے۔ دہشت گرد پاکستان کے دشمن ہیں، بلوچستان کے دشمن ہیں، بلوچستان میں رہنے والوں کی ترقی، اُن کی تعلیم، اُن کے سکون کے دشمن ہیں۔ ان دہشتگردوں کیلئے کسی نرم رویہ کی گنجائش نہیں۔ …
harfhaqq.wordpress.com
February 2, 2026 at 9:27 AM
صرف عمران خان کیلئے

گزشتہ انتخابات سے پہلے میں اُن لوگوں میں سے تھا جو کہتے رہے کہ تحریک انصاف کو مقبولیت کے باوجود جیتنے نہیں دیا جائے گا کیوں کہ عمران خان نے لڑائی اسٹیبلشمنٹ ہی نہیں بلکہ فوج کے ساتھ لے لی ہے۔ میں اس لڑائی کے ہمیشہ خلاف رہا کیوں کہ ایک طرف فوج اور دوسری طرف پاکستان کی مقبول…
صرف عمران خان کیلئے
گزشتہ انتخابات سے پہلے میں اُن لوگوں میں سے تھا جو کہتے رہے کہ تحریک انصاف کو مقبولیت کے باوجود جیتنے نہیں دیا جائے گا کیوں کہ عمران خان نے لڑائی اسٹیبلشمنٹ ہی نہیں بلکہ فوج کے ساتھ لے لی ہے۔ میں اس لڑائی کے ہمیشہ خلاف رہا کیوں کہ ایک طرف فوج اور دوسری طرف پاکستان کی مقبول جماعت اور اُس کا رہنما۔ ایسی لڑائی پاکستان کے مفاد میں نہیں ہو سکتی۔ اسی لیے اس لڑائی کو ختم کرنے کیلئے بار بار میں کہتا رہا لیکن کسی نے نہ سنی۔ الیکشن 2024 بلاشبہ بہت دھاندلی زدہ تھے اور ان کا مقصد تحریک انصاف کو ہرانا تھا۔ ایسا ہی ہوا کیوں کہ مقبولیت کی قبولیت نہ ہونے کی وجہ سے تحریک انصاف کو اقتدار نہ ملا اور فارم 47 نے مقبولیت کی جگہ قبولیت کے فارمولے کو حقیقت بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور یوں تحریک انصاف صرف خیبر پختونخوامیں ہی حکومت بنا سکی۔ افسوس کہ عمران خان اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد ’’ٹکر والے لوگ‘‘ کے ڈائیلاگ سے بہت زیادہ متاثر رہے اور’’ٹکر‘‘ کے جوش میں اتنا آگے نکل گئے کہ فوج ، جسے عمران خان پاکستان کی سالمیت کا ضامن قرار دیتے رہے، کے خلاف 9 مئی بھی ہو گیا، اپنی ہی فوج کے خلاف اتنی نفرت کے بیج بو دیے گئے کہ شہیدوں تک کا مذاق اُڑایا گیا۔ …
harfhaqq.wordpress.com
January 5, 2026 at 12:56 PM
حق مانگو گے تو یہ حشر کریں گے

اسرائیلی جیلوں میں اس وقت ہر عمر و جنس کے بارہ تا پندرہ ہزار فلسطینی قیدی ہیں۔ کچھ باقاعدہ سزائیں بھگت رہے ہیں اور اکثریت بنا فردِ جرم برسوں سے قید ہے۔ ان میں سے اگر دو ہزار قیدی کسی ’’ امن سمجھوتے ‘‘ کے تحت رہا بھی ہو گئے ہیں تو ان کی کمی اسرائیل اگلے ایک ماہ میں…
حق مانگو گے تو یہ حشر کریں گے
اسرائیلی جیلوں میں اس وقت ہر عمر و جنس کے بارہ تا پندرہ ہزار فلسطینی قیدی ہیں۔ کچھ باقاعدہ سزائیں بھگت رہے ہیں اور اکثریت بنا فردِ جرم برسوں سے قید ہے۔ ان میں سے اگر دو ہزار قیدی کسی ’’ امن سمجھوتے ‘‘ کے تحت رہا بھی ہو گئے ہیں تو ان کی کمی اسرائیل اگلے ایک ماہ میں اتنے ہی اور بوڑھے ، جوان ، عورتیں اور بچے پکڑ کے پوری کر لے گا۔ جیسا کہ ہوتا آیا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کراچی کے اکثر بڑے چوراہوں پر پرندوں سے بھرے پنجرے لیے چڑی مار کھڑے ہوتے ہیں۔ خداترس لوگ ثواب کی خاطر چڑی ماروں کو یہ پرندے آزاد کرنے کے لیے ہزار دو ہزار روپے دیتے ہیں۔ چڑی مار انھیں آزاد کر دیتا ہے اور گزشتہ روز اسی جگہ پرندوں سے بھرا پنجرہ لیے کسی اور ثواب کے متلاشی متمول کا منتظر ہوتا ہے۔ اسرائیل کے سزا یافتہ قیدیوں میں سب سے نمایاں نام مروان برغوتی کا ہے۔ انھیں سول نافرمانی کی تحریک انتفادہ کے دوسرے باب ( دو ہزار تا دو ہزار پانچ ) میں پانچ اسرائیلی باشندوں کی ہلاکت کی سازش کے الزام میں بیک وقت پانچ بار عمرقید سنائی گئی۔ یعنی وہ تا عمر جیل میں رہیں گے۔ …
pakistanoverview.wordpress.com
October 21, 2025 at 8:36 AM
پنجاب کا نیا نام – صوبہ مریم و نواز

ایسا لگتا ہے کہ پنجاب اب ایک صوبے کی بجائے خاندانی جاگیر میں تبدیل ہو رہا ہے۔ بہتر ہو گا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز صاحبہ باقاعدہ اعلان کر دیں کہ پنجاب کا نام بدل کر ’’صوبہ مریم ونواز‘‘ رکھ دیا گیا ہے۔ جب ہر دوسرا منصوبہ یا تو نواز شریف کے نام سے منسوب ہو یا مریم…
پنجاب کا نیا نام – صوبہ مریم و نواز
ایسا لگتا ہے کہ پنجاب اب ایک صوبے کی بجائے خاندانی جاگیر میں تبدیل ہو رہا ہے۔ بہتر ہو گا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز صاحبہ باقاعدہ اعلان کر دیں کہ پنجاب کا نام بدل کر ’’صوبہ مریم ونواز‘‘ رکھ دیا گیا ہے۔ جب ہر دوسرا منصوبہ یا تو نواز شریف کے نام سے منسوب ہو یا مریم نواز کے، تو پھر پنجاب کو اپنے نام سے ہی منسوب کر دیں۔ ابھی کل ہی خبر آئی کہ لاہور کے جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا نام تبدیل کر کے’’مریم نواز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی‘‘رکھ دیا گیا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ صرف ایک نام کی تبدیلی نہیں، بلکہ ایک سوچ کی عکاسی ہے۔ وہ سوچ جو سمجھتی ہے کہ عوامی خدمت بھی ذاتی تشہیر کا ذریعہ ہونی چاہیے۔ نواز شریف اور مریم نواز کے نام پہلے ہی کئی پرانے اور نئے پرجیکٹس منسوب کیے جا چکے ہیں۔ وی نیوز (WeNews) کے مطابق حال ہی میں مریم نواز حکومت کی طرف سے سال 2025-26 کا 5300 ارب روپے کا جو بجٹ پیش کیا گیا، اس میں 13 نئے پراجیکٹس کا نام میں نواز شریف اور مریم نواز کے نام سے منسوب کیا گیا۔ یعنی اصل’’خدمت‘‘ تختیوں میں کی گئی ہے۔ نواز شریف کے نام پر سات اور مریم نواز کے نام پر چھ منصوبے رکھے گئے ہیں۔ گویا تختیاں گنیں تو کارکردگی خود بخود ظاہر ہو جائے۔
harfhaqq.wordpress.com
October 20, 2025 at 2:14 PM
کیا واقعی ہم سیاسی عدم استحکام کا شکار ہیں؟

ایک بنیادی نوعیت کا سوال اکثر اہل دانش یا فکری مباحث میں موجود رہتا ہے کہ کیا واقعی قومی سطح پر جو بیانیہ سیاسی عدم استحکام کا ہے، اس میں کس حد تک حقیقت ہے یا یہ محض ایک مفروضہ یا حقایق سے دور کا نقطہ نظر ہے۔ لوگ پہلے ہی اپنی اپنی سوچ اور فکر پر تقسیم…
کیا واقعی ہم سیاسی عدم استحکام کا شکار ہیں؟
ایک بنیادی نوعیت کا سوال اکثر اہل دانش یا فکری مباحث میں موجود رہتا ہے کہ کیا واقعی قومی سطح پر جو بیانیہ سیاسی عدم استحکام کا ہے، اس میں کس حد تک حقیقت ہے یا یہ محض ایک مفروضہ یا حقایق سے دور کا نقطہ نظر ہے۔ لوگ پہلے ہی اپنی اپنی سوچ اور فکر پر تقسیم ہیں یا کسی نقطہ نظر کی کھل کر حمایت یا مخالفت کرتے ہیں۔ بعض اوقات اس نقطہ نظر میں حقایق سے زیادہ جذباتیت کے عمل کو بھی غلبہ حاصل ہوتا ہے لیکن اس پہلو پر غوروفکر ہونا چاہیے کہ ہم کس حدتک سیاسی استحکام رکھتے ہیں۔ سیاسی استحکام سے مراد محض حکومت کا سیاسی، انتظامی، قانونی اور معاشی ڈھانچہ کی موجودگی ہی نہیں ہوتی بلکہ اس کی ساکھ سے جڑے بنیادی نوعیت کے سوالات اور ریاست یا حکومت کے نظام کا سیاسی تسلسل اور شفافیت پر مبنی نظام ہوتا ہے۔ یہ سب کچھ اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے جب ریاست یا حکومت کا نظام کو ریاستی آئین، قوانین ، سیاسی اور جمہوری خطوط اور منصفانہ معاشی نظام پر چلایا جائے۔ اس لیے جب اس سوال پر غور کیا جاتا ہے کہ ہم بطور ریاست سیاسی استحکام رکھتے ہیں تو اس کا جواب ہمیں لاتعداد سوالات اور تحفظات کے طور پر ملتا ہے کیونکہ ہم نے سیاست اور جمہوریت کے نظام کو کبھی اپنی سیاسی اور ریاستی ترجیحات کا حصہ نہیں بنایا۔
pakistanoverview.wordpress.com
January 23, 2025 at 7:27 AM
عمران خان کا آخری کارڈ

تحریک انصاف کی تقریباً پوری قیادت حیران ہے کہ جیل میں قید اُن کے رہنما اور بانی چیئرمین نے اب یہ کیا اعلان کر دیا ہے۔ بغیر کسی سے مشاورت کیے عمران خان نے سول نافرمانی کا اعلان سوشل میٖڈیا کے ذریعے کر دیا اور پہلے مرحلے میں اگر اُن کے مطالبات نہ مانے گئے تو وہ بیرون ملک…
عمران خان کا آخری کارڈ
تحریک انصاف کی تقریباً پوری قیادت حیران ہے کہ جیل میں قید اُن کے رہنما اور بانی چیئرمین نے اب یہ کیا اعلان کر دیا ہے۔ بغیر کسی سے مشاورت کیے عمران خان نے سول نافرمانی کا اعلان سوشل میٖڈیا کے ذریعے کر دیا اور پہلے مرحلے میں اگر اُن کے مطالبات نہ مانے گئے تو وہ بیرون ملک پاکستانیوں سے اپیل کریں گے کہ وہ پاکستان پیسے بھیجنا یعنی ترسیلات زر کو محدود کر دیں اور بائیکاٹ مہم چلائیں۔ اُنہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ دوسرے مرحلے میں اس سے بھی آگے جائیں گے۔ دو مطالبات جو عمران خان نے حکومت کے سامنے رکھے، اُن میں ایک مطالبہ یہ ہے کہ انڈر ٹرائل سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے جبکہ دوسرا مطالبہ ہے کہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی شفاف تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ ان مطالبات کے ماننے کیلئے عمران خان نے 14 دسمبر تک کا وقت بھی دے دیا۔ تحریک انصاف کے کسی رہنما سے مشاورت کیے بغیر اس اعلان پر پارٹی رہنما پریشان ہیں کہ خان صاحب نے یہ پھر کیا کر دیا۔ ایک تو گلہ یہ تھا کہ اتنا اہم اعلان کیا گیا اور بغیر کسی کی مشاورت اور بغیر کسی کو بتائے اور دوسرا ان رہنمائوں کا تقریباً اس بات پر اتفاق تھا کہ سول نافرمانی کی جس تحریک کا عمران خان نے اعلان کر دیا اُس پر عمل درآمد نہیں ہو سکتا اور ماضی کی طرح سول نافرمانی کی یہ تحریک بھی ناکام ہی ہو گی۔ …
pakistanoverview.wordpress.com
December 24, 2024 at 6:26 AM
معاشی ترقی کے دعوے

ملکی معیشت کے حوالے سے حکومت کے بلند بانگ دعوے خواہ کچھ بھی ہوں لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عوام مسلسل تنگ دستی اور…

https://pakistanoverview.wordpress.com/2024/11/25/%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%b4%db%8c-%d8%aa%d8%b1%d9%82%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%af%d8%b9%d9%88%db%92/
November 25, 2024 at 6:52 AM