#جمعہ
جمعہ مبارک!
October 9, 2026 at 8:37 AM
ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج جمعہ کا دن کیسا رہے گا؟

#جمعہکادنکیسارہےگا

https://justpaste.in/news/urdu/starwn-ky-rwshny-myn-aap-ka-aaj-jmah-ka-dn-kysa-rhe-ga/
ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج جمعہ کا دن کیسا رہے گا؟
justpaste.in
October 13, 2026 at 12:21 AM
جمعہ مبارک 🕌

القرآن: کہہ دو کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے کس کا ہے؟ کہہ دو کہ اللہ ہی کا ہے، اس نے اپنے اوپر رحمت لازم کر لی ہے۔

سورۃ الانعام، آیت 12
October 9, 2026 at 6:00 AM
مکہ: سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ‘وزیراعظم شہبازشریف ، ترکیہ کے صدر طیب اردوان ودیگر نماز جمعہ ادا کررہے ہیں

#تصاویر

https://justpaste.in/news/urdu/260808-08-26/
October 5, 2026 at 3:06 AM
#ウルドゥ語 で #現在日時(日付):

آج 9 اکتوبر 2026 ہے۔
きょうは #2026年 の #10月9日 です。

آج جمعہ ہے۔
きょうは #金曜日 です。

※参考語彙
#2026
دو ہزار چھبیس

#10
دس

#10月
اکتوبر

#9
نو

#9番目
نویں
October 9, 2026 at 1:32 PM
صاحبزادہ فرحان کو سری لنکا کے خلاف ’نئے کامبینیشن‘ سے اچھی کارکردگی کی امید
**پاکستان ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے نئے کپتان صاحبزادہ فرحان کا کہنا ہے کہ انہیں سٹار کھلاڑیوں بابر اعظم اور شاہین شاہ آفریدی کے بغیر نئے کامبینیشن سے سری لنکا کے خلاف اچھی کارکردگی کی امید ہے۔** دونوں ٹیموں کے درمیان تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں کی سیریز جمعہ کو راولپنڈی میں شروع ہو رہی ہے۔ تین میچوں کی سیریز میں فرحان کپتان کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ وہ گذشتہ ہفتے جاپان میں ایشین گیمز میں پاکستان کی دوسری درجے کی ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے چاندی کا تمغہ جیت چکے ہیں، جہاں فائنل میں پاکستان کو انڈیا کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔ سکواڈ میں سابق ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کپتان سلمان آغا اور وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان بھی شامل نہیں ہیں۔ یہ تبدیلیاں 2028 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ، جو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں کھیلا جائے گا، کے لیے ٹیم تیار کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ صاحبزادہ فرحان نے جمعرات کو سیریز کے آغاز سے قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے یقین ہے کہ یہ نئی ٹیم بہترین ہے اور اس سیریز کے دوران خود کو منظم کرلے گی۔‘ انہوں نے کہا کہ ’میں جانتا ہوں کہ ٹیم کی قیادت کیسے کرنی ہے اور میں دباؤ نہیں لوں گا۔‘ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں بابر اعظم کی فارم میں کمی آئی تھی اور انہیں فروری میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں سری لنکا کے خلاف پاکستان کے آخری میچ سے بھی ڈراپ کر دیا گیا تھا۔ شاہین شاہ آفریدی بھی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کے لیے ٹیم کی ترجیحات سے باہر ہیں، تاہم وہ 18 اکتوبر سے راولپنڈی میں سری لنکا اور انگلینڈ کے خلاف شروع ہونے والی تین ملکی سیریز میں پاکستان کی ون ڈے ٹیم کی قیادت کریں گے۔ سری لنکا بھی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے اور سٹار لیگ سپنر ونیندو ہسرنگا اور سابق کپتان چارتھ اسالنکا کو دورۂ پاکستان کے لیے ٹیم سے باہر کردیا گیا ہے۔ ہسرنگا 101 میچوں میں 163 وکٹوں کے ساتھ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولرز کی فہرست میں مشترکہ طور پر پانچویں نمبر پر ہیں۔ سری لنکن کپتان کوشل مینڈس نے کہا کہ ’بدقسمتی سے ونیندو اب بھی انجری کا شکار ہیں، ہمیں ان کی کمی محسوس ہوگی، لیکن ہمارے پاس چند دیگر باصلاحیت کھلاڑی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ وہ آگے بڑھ کر اچھی کارکردگی دکھائیں گے۔‘ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں رواں سال کے آغاز میں کھیلنے والے مینڈس نے راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے خیال میں ہر کوئی جانتا ہے کہ پاکستان میں کیسے کھیلنا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کے پاس بھی کچھ نئے چہرے ہیں، لیکن ان کے کھلاڑی اچھے ہیں اور ہم ان میں سے کچھ کو پی ایس ایل سے جانتے ہیں، اس لیے مجھے امید ہے کہ ہمارے کھلاڑی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔‘ سیریز کے باقی دو میچز بھی راولپنڈی میں 11 اور 13 اکتوبر کو کھیلے جائیں گے۔ پاکستان سری لنکا کرکٹ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں کی سیریز جمعہ کو راولپنڈی میں شروع ہو رہی ہے۔ اے ایف پی جمعرات, اکتوبر 8, 2026 - 19:00 Main image: > <p>پاکستان اور سری لنکا کے ٹی ٹوئنٹی کپتانوں سے سیریز کے آغاز سے قبل 8 اکتوبر 2026 کو راولپنڈی سٹیڈیم میں ٹرافی کی رونمائی کی (اے ایف پی)</p> کرکٹ type: news related nodes: سری لنکا سیریز: سلمان آغا اور بابر آؤٹ، فرحان نئے کپتان ورلڈ کپ 2027: جوہانسبرگ پاکستان انڈیا میچ اور فائنل کی میزبانی کرے گا ہمیں اپنی بیٹیوں کو میدان دینا ہو گا، وہ ہمیں منزلیں دیں گی خراب پرفارمنس کا مطلب یہ نہیں کہ کرکٹ چھوڑ دوں: محمد رضوان SEO Title: صاحبزادہ فرحان کو سری لنکا کے خلاف ’نئے کامبینیشن‘ سے اچھی کارکردگی کی امید copyright: show related homepage: Hide from Homepage
www.independenturdu.com
October 8, 2026 at 3:14 PM
جمعہ مبارک 🕌

حدیثِ نبوی ﷺ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص صبر کرنے کی کوشش کرتا ہے، اللہ اسے صبر عطا فرماتا ہے، اور کسی کو صبر سے بہتر اور زیادہ وسیع نعمت نہیں دی گئی۔

صحیح مسلم، حدیث 1053
October 2, 2026 at 6:00 AM
جمعہ کی نماز بعد سسرال گیا تھا🥺
ابھی بس سلام دعا کر کے بیٹھا ہی تھا کہ
کچن سے آواز آئی!!
روٹیاں زیادہ بنانا۔۔۔۔فیر آ گیا اے 🙄💔
ایڈی بزتی 🙈🥺خیر میں وی پرواہ نہیں کیتی بریانی ٹکا کے چھکی نال لسی وی 🙈😝
#LaCasaDeLosFamososMéxico
#JoongDunk #اردو_زبان
October 2, 2026 at 11:09 AM
جمعہ مبارک! سورہ الفلق کا خوبصورت پیغام، ہر شر اور نظر بد سے حفاظت کی دعا 🤲
Jumma Mubarak, Surah Al Falaq, Surah Falaq Urdu Tarjuma, Islamic status, Quran recitation, protection from evil eye, Nazar e bad ki dua, Makkah Clock Tower, Kaaba status, Friday blessings, Jumma Mubarak status,
October 1, 2026 at 4:37 PM
4 اکتوبر لانگ مارچ: حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات جاری
**حکومت اور حزب اختلاف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکرات آج بروز جمعہ اسلام آباد میں جاری ہیں۔** پی ٹی آئی نے اپنے مطالبات کے حق میں چار اکتوبر سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان رکھا ہے، جس کے پیش نظر اسلام آباد کے داخلی وخارجی راستوں کے قریب اور مختلف مقامات پر سڑکوں کے کنارے بڑی تعداد میں کنٹینرز موجود ہیں۔ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب وزیراعظم شہباز شریف کی وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) صوبے میں شدت پسندوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث وفاقی حکام نے گورنر راج لگانے یا ہنگامی اقدامات کرنے کا امکان ظاہر کیا ہے، دوسری طرف پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ چار اکتوبر کا احتجاجی مارچ ہر صورت ہوگا۔ اسی سلسلے میں جمعرات کو ایوان صدر میں صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی اہم ملاقات میں آج پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ کیا گیا۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں سپیکر چیمبر میں ہونے والے مذاکرات میں حکومت کی جانب سے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ، وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری اور وفاقی وزیر امیر مقام شامل ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کی نمائندگی شیری رحمٰن، نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی کر رہے ہیں۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے وفد میں پارٹی چیئرمین گوہر خان، علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر، عامر ڈوگر، سلمان اکرم راجہ اور حلیم عادل شیخ شامل ہیں۔ **حکومت نے پی ٹی آئی سے مذاکرات میں تاخیر کی: امیر جماعت اسلامی** حکومتی وفد سے ملاقات سے قبل پی ٹی آئی کی اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے وفد سے ملاقات ہوئی، جس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں جماعت کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے ’مذاکرات میں تاخیر‘ پر حکومت پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت نے پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات میں تاخیر کی اور ایسا کرنے سے معاملات خراب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا ہے کہ ’حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات بامعنی ہونے چاہییں، محض فوٹو سیشن نہ ہو بلکہ نتیجہ نکلنا چاہیے۔‘ خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی خبروں پر حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا: ’اس وقت خیبر پختونخوا کے حوالے سے بات چل رہی ہے کہ وہاں گورنر راج یا ایمرجنسی لگائی جا رہی ہے یا قومی سطح پر ایمرجنسی لگائی جائے۔‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’کسی چیز کو جو آئین کو معطل کرے یا چلتے نظام کو خراب کرے تاکہ مخصوص اہداف پورے کیے جا سکیں تو جماعت اسلامی ایسے کسی اقدام کو قبول نہیں کرے گی۔‘ حافظ نعیم الرحمٰن نے یہ بھی بتایا کہ پی ٹی آئی کے وفد نے کُل جماعتی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کر لی ہے۔ انہوں نے مزید کہا: ’فی الواقع قومی ایجنڈے کی ضرورت ہے جس کے تحت پاکستان میں امن و امان قائم ہو۔ معاشی صورت حال میں بہتری آئے۔ عوام کو حق حکمرانی ملے۔‘ حافظ نعیم الرحمٰن نے عمران خان اور ان کی بہنوں سمیت پی ٹی آئی کی خواتین رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی اور جیل میں قید بیمار رہنماؤں کو علاج کی سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ > View this post on Instagram > > A post shared by Independent Urdu (@indyurdu) وفاقی حکام نے خیبر پختونخوا کے بارے میں تنبیہ کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے اور شدت پسندوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث سکیورٹی پالیسی پر صوبائی اور وفاقی حکومت کے درمیان پہلے سے جاری شدید اختلافات مزید بڑھ گئے ہیں۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے رواں ہفتے کہا کہ اگر آئینی شرائط پوری ہوئیں تو صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کی جا سکتی ہے، جبکہ امیر مقام کا کہنا ہے کہ اس امکان پر مشاورت ہوئی ہے۔ تاہم اب تک ان میں سے کوئی بھی اقدام کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ لانگ مارچ پی ٹی آئی احتجاج مظاہرہ مذاکرات یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب وزیراعظم شہباز شریف کی وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔  انڈپینڈنٹ اردو جمعہ, اکتوبر 2, 2026 - 13:00 Main image: > <p class="rteright">وزیراعظم شہباز شریف (درمیان دائیں) یکم اکتوبر 2026 کو اسلام آباد میں ایوانِ صدر میں صدر آصف زرداری (درمیان بائیں) کے ساتھ ملاقات کر رہے ہیں۔ اس ملاقات میں وفاقی وزرا اور دیگر سرکاری حکام بھی شریک تھے (ایوان صدر ایکس اکاؤنٹ)</p> سیاست type: news related nodes: چار اکتوبر کو ہر صورت لانگ مارچ کریں گے: سہیل آفریدی پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے پہلے عمران خان کی بہن علیمہ گرفتار پی ٹی آئی نے توہین عدالت کی درخواست دوبارہ دائر کر دی پی ٹی آئی نے عمران خان کی آنکھوں کا ’تفصیلی چیک اپ‘ مسترد کر دیا SEO Title: 4 اکتوبر لانگ مارچ: حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات جاری copyright: show related homepage: Show on Homepage
www.independenturdu.com
October 3, 2026 at 1:09 AM
یومِ آزادی کے موقع پر جمعہ 14 اگست کو چھٹی کا اعلان

#جمعہ14اگستکوچھٹیکااعلان

https://justpaste.in/news/urdu/%db%8c%d9%88%d9%85%d9%90-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af%db%8c-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%88%d9%82%d8%b9-%d9%be%d8%b1-%d8%ac%d9%85%d8%b9%db%81-14-%d8%a7%da%af%d8%b3%d8%aa-%da%a9%d9%88-%da%86%da%be%d9%…
یومِ آزادی کے موقع پر جمعہ 14 اگست کو چھٹی کا اعلان
justpaste.in
September 30, 2026 at 6:51 AM
پاکستان: دہشت گردی سے لڑنے کا طریقہ بدلنا ہو گا
**میرے اسلام آباد کے محلے میں واقع ایک مسجد میں نماز جمعہ کے دوران اچانک ایک زور دار دھماکے جیسی آواز نے خاموشی توڑ دی۔ ایک لمحے کے لیے نمازی ساکت رہ گئے۔ کوئی حادثہ پیش نہیں آیا تھا، لیکن اس ردعمل نے سب کچھ بیان کر دیا۔** جب ایک بے ضرر آواز بھی عبادت میں خلل ڈال دے تو اس کا مطلب ہے کہ دہشت گردی نے ہماری زندگیوں کو بدل دیا ہے۔ ہم نے تقریباً غیر معمولی چیزوں کو معمول سمجھ لیا ہے: مساجد کے باہر مسلح پولیس اہلکار، روزمرہ زندگی کے گرد رکاوٹیں۔ لیکن خوف اب بھی موجود ہے۔ یہ خوف میرے لیے نیا نہیں۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ ایک دہشت گرد حملہ کتنی تیزی سے نہ صرف معاشرے کے تحفظ کے احساس کو بدل دیتا ہے بلکہ اس کے اداروں کے ردعمل کو بھی تبدیل کر دیتا ہے۔ 11 ستمبر 2001 کو میں امریکی ریاست لوزیانا کے شہر بیٹن روج کی پولیس اکیڈمی میں موجود تھا۔ اس وقت پاکستان پر امریکی پابندیاں عائد تھیں اور ہنگامی واقعات سے نمٹنے کے انتظام سے متعلق ہمارا تربیتی کورس دونوں ممالک کے درمیان پیشہ ورانہ رابطوں کی محتاط بحالی کا حصہ تھا۔ ستم ظریفی یہ تھی کہ ہم ایک فرضی بحران کی مشق کی تیاری کر رہے تھے کہ ایک پروگرام معاون کمرے میں گھس آیا: امریکہ پر حملہ ہو گیا تھا۔ پھر حملہ آوروں کے نام اور شناختیں سامنے آئیں۔ ہم امید کر رہے تھے کہ اس کے اثرات ہمارے خطے تک نہیں پہنچیں گے۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ 30 جولائی 2026 کو پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں ایک چیک پوسٹ پر عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد سکیورٹی اہلکار پہرہ دے رہا ہے۔ پولیس کے مطابق 29 جولائی کو اس حملے میں نو پولیس اہلکار جان سے گئے جس کے بعد جھڑپوں میں 15 حملہ آور بھی مارے گئے (اے ایف پی) میں راولپنڈی میں سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں پر واپس آیا، لیکن دنیا بدل چکی تھی۔ ایک فیصلہ کر لیا گیا تھا: ’ہم امریکہ کے ساتھ ہیں۔‘ پاکستان اگلے مورچے کا اتحادی بنا اور جلد ہی خود اگلا مورچہ بن گیا۔ کل کے جنگجو آج کے عسکریت پسند بن گئے، کچھ جرائم کی دنیا میں چلے گئے اور کچھ دہشت گردی کی طرف مائل ہو گئے۔ افغان جنگ کے دوران مغرب کے ساتھ مل کر جس سانپ کو ہم نے پالا تھا، وہی ہمارے خلاف ہو گیا۔ پچیس برس بعد پاکستان گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026 میں پہلے نمبر پر ہے۔ 2025 میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ملک کے 74 فیصد سے زیادہ دہشت گرد حملے اور اس سے ہونے والی 67 فیصد اموات ہوئیں۔ کئی دہائیوں کی اس جنگ کے بعد اب ہمیں زیادہ سخت سوالات پوچھنے ہوں گے۔ ہم اب بھی کس سے لڑ رہے ہیں؟ نئی نسل کے عسکریت پسند مسلسل کیوں پیدا ہو رہے ہیں اور انہیں تشدد کی طرف کیا کھینچتا ہے؟ شاید سوال اب صرف یہ نہیں رہا کہ دہشت گردی سے کیسے لڑا جائے بلکہ یہ ہے کہ ان تمام برسوں نے ہمیں کیا یہ سکھایا ہے کہ اس سے کیسے نہیں لڑنا چاہیے۔ دہشت گردوں کو پسپا کیا جا سکتا ہے۔ 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد قومی ردعمل نے صورت حال کا رخ بدل دیا تھا۔ مگر جنگ کے کچھ معرکے جیت لینا پوری جنگ جیتنے کے مترادف نہیں۔ دہشت گردی اس وقت لوٹ آتی ہے جب اسے جنم دینے والے عوامل باقی رہتے ہیں۔ اگر پرانے طریقوں پر مزید سختی سے عمل کرنا ہی حل ہوتا تو ہم یہ مسئلہ بہت پہلے حل کر چکے ہوتے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم یہ سوچیں کہ ہمیں کون سے کام چھوڑ دینے چاہییں۔ تین باتیں خاص طور پر نمایاں ہیں۔ پہلی بات، آج کے عسکریت پسندوں کا خاتمہ کرتے ہوئے کل کے عسکریت پسند پیدا کرنا بند کریں۔ طاقت کا استعمال بعض اوقات ضروری ہوتا ہے لیکن ضرورت سے زیادہ طاقت نہیں۔ اجتماعی سزا، ضمنی نقصانات، من مانی گرفتاریاں اور لوگوں کی تذلیل ان ہی برادریوں کو ہم سے دور کرتی ہیں جن کے اعتماد کی ہمیں ضرورت ہوتی ہے۔ ناقص پولیسنگ اور سخت گیر سکیورٹی آپریشن ایک دہشت گرد کو تو ختم کر سکتے ہیں، مگر اگلے دہشت گرد کی پیدائش میں مددگار بن سکتے ہیں۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) دوسری بات، انتخابی اور سیاسی مفادات پر مبنی انسدادِ دہشت گردی بند کریں۔ سہولت اور مفاد کے مطابق ’اچھے‘ اور ’برے‘ عسکریت پسندوں کی کوئی تقسیم نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان ایسی تفریق کی بڑی قیمت ادا کر چکا ہے۔ اسی طرح انسداد دہشت گردی کو سیاسی انجینئرنگ کا آلہ بھی نہیں بننا چاہیے۔ پولیس کو ایک دن سیاسی کشمکش میں جھونک کر اگلے دن یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے درکار عوامی اعتماد حاصل کر لے گی۔ تیسری بات، قانون کو نظرانداز کرنے والے شارٹ کٹس اختیار کرنا بند کریں۔ ماورائے عدالت طریقے بظاہر سخت اور مؤثر دکھائی دے سکتے ہیں لیکن وہ ادارہ جاتی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں۔ جب تفتیش ناکام ہو، گواہوں کو دھمکایا جائے، استغاثہ کمزور ہو اور مقدمات ختم ہو جائیں تو اگلا آپریشن صرف اسی ناکامی کے چکر کو دوبارہ شروع کرتا ہے۔ یہ حکمت عملی نہیں بلکہ ناکامی کی ری سائیکلنگ ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بندوق سے آگے بھی دیکھا جائے۔ عسکریت پسندی کو محرومی، کمزور طرزِ حکمرانی، ناانصافی، انتہا پسند بیانیے اور مواقع کی کمی غذا فراہم کرتے ہیں۔ عسکریت پسند کو ختم کر کے شکایت اور محرومی کی وجوہات کو برقرار رکھنا صرف گھڑی کو دوبارہ صفر پر لانے کے مترادف ہے۔ اسی طرح کامیابی کو صرف مارے گئے دہشت گردوں کی تعداد سے بھی نہیں ناپنا چاہیے۔ ہم سینکڑوں بلکہ بعض اوقات ہزاروں دہشت گردوں کے خاتمے کی خبریں سنتے ہیں۔ مگر ایک تکلیف دہ سوال باقی رہتا ہے: اگر دہشت گردوں کو مار دینا ہی کافی ہوتا تو دہشت گردی بار بار واپس کیوں آتی؟ شہادت کے بارے میں بھی ہمیں ازسرِنو سوچنے کی ضرورت ہے۔ ہم بجا طور پر شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں اور فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، لیکن اچھی قیادت کا مطلب یہ بھی ہے کہ مشن کی تکمیل کے بعد اہلکاروں کو زندہ واپس لایا جائے۔ ہر بڑے حملے کے بعد بے لاگ جائزہ ہونا چاہیے: کیا ناکام ہوا، اسے کون درست کرے گا، اور کب تک کرے گا؟ اگر ہم ناکامی سے سبق نہیں سیکھتے تو ہم دراصل اس کے دوبارہ وقوع پذیر ہونے کی بنیاد رکھ رہے ہوتے ہیں۔ بیرونی محفوظ پناہ گاہیں یقیناً اہم ہیں، لیکن وہ ہر چیز کی وضاحت نہیں کرتیں۔ ہمیں یہ بھی پوچھنا ہوگا کہ ملک کے اندر کیا چیز بار بار ناکام ہو رہی ہے۔ جب سول اداروں کی صلاحیت جواب دے جائے تو فوج کو کارروائی کرنا پڑتی ہے مگر آخری مقصد قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پولیس کی قیادت میں نظام کی بحالی ہونا چاہیے۔ دہشت گردی کو پریس کانفرنسوں اور سوشل میڈیا سے نہیں بلکہ مؤثر انٹیلی جنس، پیشہ ورانہ پولیسنگ، قابل اعتماد انصاف اور ریاست پر اعتماد رکھنے والے شہریوں سے شکست دی جاتی ہے۔ ہمیں اپنی کچھ پسندیدہ اصطلاحات بھی ترک کر دینی چاہییں۔ ہمیں بارہا بتایا گیا کہ دہشت گردوں کی ’کمر توڑ دی گئی ہے‘، ’صورت حال کا رخ بدل چکا ہے‘، نیٹ ورکس ’توڑ دیے گئے ہیں‘ اور اس خطرے کو ’فیصلہ کن انداز میں کچل دیا جائے گا۔‘ حالیہ دنوں میں کوہاٹ میں نماز جمعہ کے دوران پولیس مسجد پر ہونے والا حملہ، جس میں 23 افراد جان سے گئے، اس بات کی تلخ یاد دہانی ہے کہ دہشت گردی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ سبق سادہ ہے: دہشت گردی کو صفتوں اور دعوؤں سے شکست نہیں دی جا سکتی۔ پاکستان میں نہ ہمت کی کمی ہے اور نہ منصوبوں کی۔ جس چیز کی کمی ہے وہ قانون کی حکمرانی، پیشہ ورانہ اداروں اور اچھی طرز حکمرانی کے ذریعے مستقل مزاجی سے اپنے راستے پر قائم رہنے کا نظم و ضبط ہے۔ ہم اکثر بہت جلد فتح کا اعلان کر دیتے ہیں۔ اس کے نتائج بعد میں سامنے آتے ہیں: ضائع ہونے والی جانوں، بکھرتی برادریوں اور ان مقدمات کی صورت میں جو کبھی سزا تک نہیں پہنچتے۔ حال ہی میں میں نے بین گازور کی کتاب ’اے شارٹ ہسٹری آف دی ورلڈ اِن 50 فیلئرز‘ پڑھی۔ اس کا بنیادی سبق یہ ہے کہ ناکامی تب ہی قیمتی بنتی ہے جب ہم اس سے سیکھیں۔ یا پھر چارلس ڈارون سے منسوب ایک معروف مفہوم کے مطابق، بقا سب سے طاقتور یا سب سے ذہین کو نہیں ملتی بلکہ اسے ملتی ہے جو تبدیلی کے مطابق خود کو سب سے بہتر ڈھال لے۔ انسدادِ دہشت گردی تقاضا کرتی ہے: سیکھو، خود کو ڈھالو، ورنہ دوبارہ ناکام ہو جاؤ۔ پاکستان کے لیے اصل امتحان یہ نہیں کہ ہم کتنی سخت ضرب لگاتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم ان حالات کو تبدیل کرتے ہیں جو دہشت گردی کو دوبارہ جنم دیتے ہیں۔ ورنہ ہم ایک ہی جنگ، ایک ہی طریقے سے، بار بار لڑتے رہیں گے۔ _مصنف سابق وفاقی سیکریٹری، انسپکٹر جنرل پولیس اور اقوامِ متحدہ کے پولیس کمشنر رہ چکے ہیں اور جامعات میں قانون اور فلسفہ پڑھاتے ہیں۔_ _یہ تحریر اس سے قبل عرب نیوز پر شائع ہوچکی ہے۔ یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔_ دہشت گردی حکمت عملی پاکستان عسکریت پسندی پاکستان کے لیے اصل امتحان یہ نہیں کہ ہم کتنی سخت ضرب لگاتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم ان حالات کو تبدیل کرتے ہیں جو دہشت گردی کو دوبارہ جنم دیتے ہیں۔ ورنہ ہم ایک ہی جنگ، ایک ہی طریقے سے، بار بار لڑتے رہیں گے۔ ڈاکٹر سید کلیم امام منگل, ستمبر 29, 2026 - 08:00 Main image: > <p class="rteright">24 ستمبر 2026 کو افغانستان کے صوبہ خوست کے ضلع گربز میں پاکستانی فضائی حملے کے مقام کا طالبان سکیورٹی اہلکار معائنہ کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p> زاویہ type: news related nodes: دہشت گردی کی آگ نہ روکی تو پورا پاکستان لپیٹ میں آ سکتا ہے: سہیل آفریدی سلامتی کونسل انسداد دہشت گردی نظام سے ’خامیاں‘ دور کرے: پاکستان عسکریت پسندی میں اضافہ: خیبرپختونخوا کے 26 اضلاع ’ہارڈ ایریا‘ قرار شدت پسندی: ارتقائی مراحل اور بدلتے طریقے SEO Title: پاکستان: دہشت گردی سے کیسے نہیں نمٹنا چاہیے copyright: show related homepage: Hide from Homepage
www.independenturdu.com
September 29, 2026 at 5:08 AM
السلام علیکم
جمعہ مبارک
September 25, 2026 at 3:44 AM
جمعہ مبارک 🕌

القرآن: مگر جو توبہ کرے، ایمان لائے اور نیک عمل کرے تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر ذرہ بھر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔

سورۃ مریم، آیت 60
September 25, 2026 at 6:00 AM
خطبہ جمعہ المبارک….!

جس نے ماں باپ کو اہمیت دی

ان سے حلیمی شفقت سے پیش آیا

ان کا کہا مانا

بےادبی نہیں کی

اور ماں باپ اس سے خوش ہوئے

وہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوا….!!!
September 24, 2026 at 8:16 AM
ایک یتیم بچہ جس کی ایک ٹانگ کاٹ دی گئی ہے
اس کی آنکھوں میں ایک ایسا درد ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ 💔
تامر جمعہ عبداللہ اسلیم
شہید جمعہ اسلیم کے بیٹے
ایک ڈرون حملے میں زخمی ہو گئے تھے۔
اس حملے کے نتیجے میں ان کی ایک ٹانگ کاٹنی پڑی اور ان کے پھیپھڑوں میں دھماکہ خیز مواد کے
September 21, 2026 at 2:43 PM
اللّٰهم صلِّ وسلم وبارك على نبينا محمد ﷺ

یا اللہ! اس بابرکت جمعہ کے صدقے
ہماری دعائیں قبول فرما، دلوں کو سکون عطا فرما
اور ہمارے گھروں میں رحمت و برکت نازل فرما۔ آمین یا رب العالمین۔ 🤍

#جمعہ_مبارک #درود_شریف #جمعہ
September 18, 2026 at 12:14 AM
جمعہ مبارک 🕌

حدیثِ نبوی ﷺ: جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو فرشتے مسجد کے ہر دروازے پر کھڑے ہو کر آنے والوں کے نام ترتیب سے لکھتے ہیں۔ پھر جب امام بیٹھ جاتا ہے تو وہ اپنے صحیفے لپیٹ لیتے ہیں اور ذکر سننے لگتے ہیں۔

صحیح مسلم، حدیث 850
September 18, 2026 at 6:00 AM
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 💐
صباح الخیر 🌹

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔"
📖 سنن ابی داؤد: 1047

کچھ دیر دنیا سے دل ہٹا کر درودِ پاک پڑھیں،
اور خاموشی سے وہ دعائیں مانگیں
جو صرف اللہ ہی پوری کر سکتا ہے۔ 🤲🏻❤️
September 18, 2026 at 12:14 AM
کوہاٹ میں ہونے والے المناک اور بزدلانہ دھماکے شدید قابل مذمت ہیں ۔ نمازِ جمعہ جیسے مقدس وقت پر معصوم جانیں لینا کسی طرح قابلِ قبول نہیں۔
اللہ تعالیٰ شہید ہونے والوں کو جنت الفردوس عطا فرمائے، زخمیوں کو جلد شفا دے اور تمام متاثرہ خاندانوں کو صبر عطا کرے۔
اللہ ہمارے ملک پاکستان کو امن و امان عطا فرمائے
September 18, 2026 at 1:10 PM
#ウルドゥ語 で #現在日時(日付):

آج 18 ستمبر 2026 ہے۔
きょうは #2026年 の #9月18日 です。

آج جمعہ ہے۔
きょうは #金曜日 です。

※参考語彙
#2026
دو ہزار چھبیس

#9
نو

#9月
ستمبر

#18
اٹھارہ

#18番目
اٹھارویں
September 18, 2026 at 1:02 PM