#لورالائی
میرا یہ کالم آج روزنامہ بیٹھک ملتان۔ رحیمیارخان اور لورالائی میں بیک وقت شائع ہوا۔
حاجی فضل محمود انجم کالم نگار۔
December 30, 2024 at 2:12 AM
شہدائے ڈی چوک کی یاد میں لورالائی میں تعزیتی ریفرنس منعقد کیا گیا جس میں شہدائے ڈی چوک کے ایصالِ ثواب کیلیے صدقہ و خیرات اور دعا کی گئی 💔
#گولی_کیوں_چلائی
December 7, 2024 at 9:18 AM
خضدار ،قلات اور حب میں ضمنی بلدیاتی انتخابات ملتوی، ژوب، لورالائی اور سبی میں ووٹنگ کل ہوگی

#الیکشنکمیشن

https://justpaste.in/news/urdu/by-elections-balochistan/
خضدار ،قلات اور حب میں ضمنی بلدیاتی انتخابات ملتوی، ژوب، لورالائی اور سبی میں ووٹنگ کل ہوگی
justpaste.in
October 6, 2026 at 12:50 PM
بلوچستان میں زیتون کی کاشت اور اس سے عمدہ قسم کا تیل نکالنے کے رحجان میں بہت اضافہ ہورہا ہے ژوب، خضدار اور لورالائی میں بہترین قسم کے زیتون کا تیل نکالنے کا کام جاری ہے سب سے اچھی بات یہ کہ مقامی لوگوں میں اس کی کاشت بارے دلچسپی بڑھتی جارہی ہے
December 26, 2024 at 6:21 AM
‏کوئٹہ پی ٹی آئی کےپی ایم سی ٹیم کا24نومبر کےاحتجاج کیلئےمبلائزیشن کمپین

میرےسمیت سبی ڈیویژن کےکوآرڈینیٹر احمدجان کاکڑ، لورالائی ڈیویژن کےایڈمنسٹریٹیوہیڈ فیصل خان، ضلعی کوآرڈینیٹر اسرارکاکڑ، پارٹی رہنمانصیب اللّٰہ کاکڑ،بی بی رضیہ،فضل بڑیچ،احسان اللّٰہ،ملک زادہ اسرائیل نےکمپین کی
November 20, 2024 at 5:04 PM
بلوچستان میں امن کی بحالی کے لیے قبائلی عمائدین اور علماء کا اظہار یکجہتی

ضلع لورالائی میں آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) کے لورالائی کے قبائلی عمائدین و علماء کرام سے ملاقات
November 20, 2024 at 12:50 PM
نیویارک انٹرنیشنل اولیو آئل
کمپیٹیشن ہوا ہےجہاں دنیا کےسب سےبڑے زیتون کےتیل کےمقابلے ہوئےاور یہاں ضلع لورالائی کے ایک کسان کے باغ سےحاصل کردہ تیل کوعالمی سطح پربہترین معیار کا تسلیم کیاگیا ہے۔
1200 سےزائد برانڈز نےشرکت کی تھی جسمیں ’لورالائی اولیوز‘ نے سلور ایوارڈ حاصل کیا ہے
May 17, 2025 at 11:15 AM
#لورالائی
جمعیت علماء اسلام کے صوبائی و مرکزی رہنماء محترم جناب مولوی حافظ محمد یوسف حقانی صاحب
جامعہ اسلامیہ محزن العلوم لورالائی کے سالانہ جلسہ دستار بندی سے خطاب کر رہے ہیں
January 7, 2025 at 2:55 PM
لورالائی ،
جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر محسن بلوچستان سینیٹر حضرت مولانا عبد الواسع صاحب جامعہ مخزن العلوم لورالائی کے سالانہ دستار فضیلت کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں
January 7, 2025 at 2:54 PM
لورالائی/🌹🌹🌹
یہ ایک حقیقت ہے کہ منصب کے بغیر بھی کارکن آپ سے محبت کرتے ہیں ✌️✌️✌️
قربان جانان ❤️👉
@ihafizhamdullah.bsky.social
November 19, 2024 at 10:02 AM
پشتون تحفظ مؤمنٹ صوبائی کور کمیٹی ممبر اور سوشل ایکٹوسٹ #کامریڈ_عصمت اور باقی دوستوں سمیت بلوچستان لورالائی #3MPOکی تحت پابند سلاسل رکھا ہے
ریاست کا یہ ظلم جبر پشتون قوم بھولنے والی نہیں
ریاست پشتون قوم پر یہ ظلم و جبر بند کریں
#ReleasePTMActivists
#StopStateterrorism
November 19, 2024 at 6:40 AM
کوئٹہ، لورالائی اور کوہلو میں تمام سرکاری اور نجی اسکول بند پرچے ملتوی
مزید پڑھیے: www.aaj.tv/news/30424784/
#AajNews #quetta #protest #Balochistan
November 25, 2024 at 4:52 AM
لورالائی میں علی وزیر کی گرفتاری، مصور خان کاکڑ کی اغواء، پشتونخوا وطن میں دہشت گردی کے خلاف آل پارٹیز کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ اور جلسہ عام ہوگا
November 21, 2024 at 8:28 AM
#لورالائی
جمعیت علماء اسلام کے صوبائی و مرکزی رہنماء حضرت مولانا حافظ محمد یوسف حقانی صاحب مولوی عبد الرحمن حقانی صاحب محسن بلوچستان امیر جمعیت علماء اسلام بلوچستان حضرت مولانا عبد الواسع صاحب کے ساتھ خوشگوار ملاقات کر رہے ہیں 🥰
January 7, 2025 at 2:53 PM
ملک بھر میں 16 افغان پناہ گزین کیمپ بند، ملازمین کا فیصلہ نہ ہوسکا
**حکومت پاکستان نے تقریبا 45 سال قبل ملک بھر میں قائم کیے جانے والے افغان پناہ گزین کیمپوں میں سے 16 کو مکمل طور پر بند کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں لیکن ان میں کام کرنے والے 1200 ملازمین کے مستقبل کا فیصلہ نہیں ہوا ہے۔** ملک بھر سے افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کا عمل آخری مراحل میں ہے جبکہ 25 ستمبر کو وزارت سیفرون کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ بند کیے جانے والے کیمپس ہری پور، چترال، اپر دیر، لورالائی، قلعہ سیف اللہ، پشین، کوئٹہ اور میانوالی میں قائم تھے۔ ان کیمپوں کی ہزاروں کنال زمین کے مالکان کو زمین واپسی یا ان کیمپوں کے لیے سکولوں، ہسپتالوں اور پانی کی فراہمی کے لیے کام کرنے والے 1200 سے زائد ملازمین کے مستقبل کا فیصلہ نہیں ہوسکا۔ پاکستانی حکومت نے 1979-80 میں سوویت یونین حملے کے بعد افغانستان میں خراب صورتحال کے پیش نظر افغان شہریوں کو اپنی سرزمین پر پناہ لینے کی جازت دی تھی۔ جس کے بعد سرکاری سطح پر اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یو این ایچ سی آر کے تعاون سے یہاں مختلف علاقوں میں باقائدہ افغان پناہ گزین کیمپ قائم کیے گئے تھے۔ یو این ایچ سی آر کے مطابق پاکستان میں 30 جون 2025 تک ساڑھے 13 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ افغان پناہ گزین موجود تھے لیکن پاکستان کے افغان شہریوں کو وطن واپس بھیجنے کے بڑے منصوبے پر عمل درآمد شروع ہونے سے قبل ملک میں افغانوں کی کل آبادی بشمول غیر دستاویزی افراد، کا تخمینہ تقریباً 25 لاکھ سے زیادہ لگایا تھا۔ حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشنز میں بلوچستان کے مختلف اضلاع میں قائم 10، پنجاب میں میانوالی کا کیمپ اسی طرح خیبر پختونخواہ میں 43 کیمپوں میں سے پانچ کیمپ فوری طور پر بند کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ ان کیموں میں مقیم افغان پناہ گزین کی اکثریت واپس جا چکی ہے اور جو رہ گئے وہ بھی واپسی کی تیاری میں ہیں۔ افغان پناہ گزین کیمپ کمشنر فیاض چیمہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’حکومت کے احکامات پر ہم نے افغان پناہ گزین کیمپ بند کردیے ہیں۔ ان کیموں کی زمین اور وہاں بنائے گئے سکول، ہسپتالوں یا دیگر سہولیات کے لیے بنائی گئی عمارتیں بھی خالی کرائی جارہی ہیں۔ یہاں چار دہائیوں سے کام کرنے والے سرکاری یا یو این ایچ سی آرکے ملازمین سے متعلق ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔‘ **پناہ گزین کیمپوں کی زمینیں اور عمارتوں کی حوالگی** فیاض چیمہ کے بقول ’ہم نے حکومتی احکامات کے مطابق کیمپوں کی زمینیں اور وہاں بنی ہوئی عمارتیں ضلعی انتظامیہ کے حوالے کر دی ہیں۔ زمینیں کیونکہ مقامی شہریوں سے ٹھیکے پر لی گئی تھیں اور عمارتیں سرکاری ہیں۔ لہذا اب ضلعی انتظامیہ نے فیصلہ کرنا ہے کہ زمینوں اور وہاں بنی عمارتوں سے متعلق کیا ہوسکتا ہے۔‘ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) میانوالی میں 390 ایکڑ پر قائم کیمپ جو ہزاروں کنال اراضی بنتی ہے اس کے مالکان حکومت کی جانب سے 15 سال سے ٹھیکہ (طے شدہ کرایہ) نہ ملنے کا شکوہ کر رہے ہیں۔ وہاں کام کرنے والے سرکاری ملازمین بھی روزگار کی فکر میں ہیں۔ میانوالی کے علاقے کوٹ چاندنہ میں کیمپ ختم ہونے کے بعد مقامی زمیندار ہاشم خان نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’ہمارے دادا نے 45 سال پہلے افغان پناہ گزین کا کیمپ لگانے کے لیے 300 کنال زمین حکومت کو ٹھیکے پر دی تھی۔ لیکن ہمیں صرف ایک بار ٹھیکہ ادا کیا گیا ہے۔ اب کیمپ تو ختم ہوگیا لیکن مجھ سمیت تمام زمین مالکان کو زمین واپس نہیں کی گئی۔ ’390 ایکڑ زمین یہاں کے مقامی زمینداروں کی ہے۔ یہاں سکول اور ہسپتال سمیت سرکاری عمارتیں اور بستیاں بنی ہیں اس لیے ہمین اپنی زمین اور بقایا جات کی ادائیگی بارے کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔‘ بقول ہاشم خان ’چار دہائیوں سے ہماری زمین پر کیمپ بنا ہوا ہے اکثریت میں یہاں رہنے والے مہاجرین جا چکے ہیں۔ 10 سے 12گھر ابھی بھی یہاں رہ گئے ہیں جو جانے کی تیاری میں ہیں۔ ان میں سے بیشتر کے پاس یہاں رہنے کا اجازت نامہ بھی تھا اور کافی بغیر دستاویزات کے بھی رہائش پزیر تھے۔ اس کیمپ کی وجہ سے یہان بازار اور آبادیاں بھی بنی ہوئی ہیں۔ لیکن کیمپ خالی ہونے سے یہاں گھروں اور عمارتوں کا مالک کون ہوگا یہ بھی طے نہیں کیا گیا۔‘ **ملازمین کی پریشانی** کوٹ چاندنہ میانوالی کیمپ کے لیے بنے سرکاری ہسپتال کے سربراہ ڈاکٹر رفاقت اللہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’میں 40 سال سے یہاں ہسپتال میں سرکاری طور پر ڈیوٹی کر رہا ہوں۔ بطور ایم ایس مجھے ابھی تک محکمہ صحت کی جانب سے معلومات نہیں دی گئیں کہ ہسپتال کو بند کرنا ہے یا چلتا رہے گا۔ البتہ یہاں کام کرنے والے تمام ملازمین پریشان ہیں کہ ان کی نوکریوں کا کیا بنے گا۔ ’کیمپ ختم ہونے کے بعد اس ہسپتال کی اتنی ضرورت نہیں جتنی پہلے تھی۔ لیکن یہاں اطراف کی آبادیوں اوردور دراز کے گاوں سے بھی مریض آتے ہیں۔‘ رفاقت اللہ کے بقول ’حکومت نے اس کیمپ کے لیے بننے والی تمام عمارتوں کو خالی کرنے کا ابھی تک حکم نہیں دیا البتہ یہ جلعی انتظامیہ کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ اس لیے امید یہی ہے کہ اس ہسپتال کے ملازمین کی نوکریوں کو خطرہ ہے۔‘ یہاں قائم کیمپ میں کام کرنے والے سرکاری ملازم عابد نور نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’ہم یہاں کئی سالوں سے کام کر رہے ہیں کچھ سرکاری ملازم ہیں اور کئی یو این ایچ سی آر کے ماتحت کام کر رہے ہیں۔ لیکن ہمیں اب یہ معلوم نہیں کہ ہمیں دوسرے محکموں میں ضم کیا جائے گا یا نوکریوں سے برطرفی مقدر بنے گی۔ ملازمین کی بڑی تعداد ہے جن کے گھر ان کی تنخواہ سے چلتے ہیں۔ اگر کیمپ بند ہونے پر نوکریاں ختم کی گئیں تو کئی گھرانے متاثر ہوں گے اور لوگ بے روزگار ہوجائیں گے۔‘ یو این ایچ سی آر کے مطابق 30 جون 2025 تک پاکستان میں 13 لاکھ سے زیادہ سے زیادہ افغان شہری تھے۔ ان میں سے نصف سے زیادہ 717,945 خیبر پختونخوا میں، 326,584 بلوچستان میں، 195,188 پنجاب میں، 75,510 سندھ میں اور 43154 اسلام آباد میں رہتے تھے۔ افغان پاکستان افغان پناہ گزین ان کیمپوں کی ہزاروں کنال زمین کے مالکان کو زمین واپسی یا ان کیمپوں کے لیے سکولوں، ہسپتالوں اور پانی کی فراہمی کے لیے کام کرنے والے 1200 سے زائد ملازمین کے مستقبل کا فیصلہ نہیں ہوسکا۔ ارشد چوہدری ہفتہ, ستمبر 27, 2025 - 19:15 Main image: > <p class="rteright">45 سالہ افغان شہری طیبہ جو آر ٹی اے - ریڈیو ٹیلی ویژن افغانستان میں آرکائیو کے شعبے میں کام کرتی تھیں، بے دخل کیے جانے کے بعد ایک عوامی پارک میں پناہ لیے ہوئے دوسروں کے ساتھ بیٹھی ہیں کیونکہ پاکستان نے 15 اگست 2025 کو اسلام آباد میں دستاویزی افغان پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنا شروع کر دیا ہے (روئٹرز)</p> پاکستان type: news related nodes: حاملہ بیوی کو کہاں لے جاؤں، 40 سال سے مقیم افغان پناہ گزین کا سوال کراچی: افغان پناہ گزین کیمپ کا بازار جس میں ’خواب‘ بک رہے ہیں گھر زیر آب، کیمپ میں پناہ گزین، لیکن طالبہ کا تعلیم کا عزم برقرار ہم طے کریں گے افغان پناہ گزین یہاں رہیں گے یا نہیں: پاکستان SEO Title: ملک بھر میں 16 افغان پناہ گزین کیمپ بند، ملازمین کا فیصلہ نہ ہوسکا copyright: show related homepage: Hide from Homepage
www.independenturdu.com
September 28, 2025 at 4:42 AM
بلوچستان: کیچ میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی دھماکے کا نشانہ، پانچ اہلکار جان سے گئے
**بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے شیر بندی میں پیر کو دیسی ساختہ بم سے سکیورٹی فورسز کی گاڑی کو اُس وقت نشانہ بنایا گیا جب اہلکار علاقے میں کلیئرنس آپریشن کے لیے جا رہے تھے۔** آئی ایس پی آر کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں پاکستان فوج کے پانچ اہلکار جان سے گئے جن میں کیپٹن وقار احمد (عمر 25 سال، ضلع لورالائی)، نائیک عصمت اللہ (عمر 35 سال، ضلع ڈیرہ غازی خان)، لانس نائیک جنید احمد (عمر 29 سال، ضلع سکھر)، لانس نائیک خان محمد (عمر 29 سال، ضلع مردان) اور سپاہی محمد ظہور (عمر 28 سال، ضلع صوابی) شامل ہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ فالو اپ آپریشن کے دوران انڈین پراکسی تنظیم کے پانچ دہشت گردوں کو مار دیا گیا ہے جبکہ علاقے میں مزید کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی باقی ماندہ انڈین حمایت یافتہ شدت پسند کو ختم کیا جا سکے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ’وطن کے یہ بہادر سپوت اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے اس عزم کو مزید مضبوط کر گئے ہیں کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز قوم کے شانہ بشانہ انڈیا کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔‘ بلوچستان کے وزیراعلٰی سرفراز بگٹی گذشتہ ماہ بیان دیا تھا کہ دہشت گرد 14 اگست کو صوبے میں جشن آزادی منانے والوں کو نشانہ بنانا چاہتے تھے لیکن سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے بڑی تباہی سے صوبے کو بچا لیا گیا۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) بلوچستان ملک کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہےاور حالیہ برسوں میں عسکریت پسند تواتر سے اس صوبے کے مختلف اضلاع میں سکیورٹی فورس، سرکاری تنصیبات اور عوامی مقامات پر حملے کرتے ہیں۔ سکیورٹی خدشات کے سبب ہی صوبائی حکومت نے یکم اگست کو صوبے میں موبائل انٹرنیٹ سہولت بھی بند کر دی تھی۔ دہشت گردی کے خلاف حالیہ کارروائیوں کے دوران 13اور 14 ستمبر کی درمیانی شب خیبر پختونخوا میں بھی سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں کے دوران 31 عسکریت پسند مارے گئے۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے پیر کو جاری کیے جانے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی جس میں فائرنگ کے تبادلے میں ’انڈیا کے حمایت یافتہ‘ 14 عسکریت پسند مارے گئے۔ گذشتہ ہفتے 10 سے 13 ستمبر کے درمیان اس صوبے کے دو اضلاع باجوڑ اور جنوبی وزیرستان میں پاکستانی فوج سے دو علیحدہ علیحدہ جھڑپوں میں 35 عسکریت پسند مارے گئے جبکہ 12 سکیورٹی اہلکاروں کی جان گئی تھی۔ افغانستان کی سرحد پر واقع پاکستانی ضلع باجوڑ گذشتہ لگ بھگ ڈیڑھ ماہ سے عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی کی وجہ سے خبروں میں ہے، جہاں ماموند کے علاقے سے ہزاروں کی تعداد میں مقامی افراد کو نقل مکانی بھی کرنا پڑی۔ بلوچستان دہشت گردی کیچ آئی ایس پی آر کے مطابق فالو اپ آپریشن کے دوران انڈین پراکسی تنظیم کے پانچ دہشت گردوں کو مار دیا گیا ہے جبکہ علاقے میں مزید کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ انڈپینڈنٹ اردو منگل, ستمبر 16, 2025 - 07:45 Main image: > <p class="rteright">سکیورٹی اہلکار 21 مئی 2025 کو صوبہ بلوچستان کے ضلع خضدار میں سکول بس میں بم دھماکے کی جگہ کے قریب ایک سڑک پر تعینات ہیں (اے ایف پی)</p> پاکستان type: news related nodes: بلوچستان: کیچ کا تھیلیسیمیا سینٹر جہاں 400 بچوں کا علاج ہوتا ہے کوئٹہ کے علاوہ کیچ، لورالائی میں بھی انٹر اور میٹرک بورڈز کا قیام کیچ: عسکریت پسندوں سے مقابلہ، پانچ فوجی جان سے گئے بلوچستان میں چار دن کے لیے ٹرین سروسز معطل: رپورٹ SEO Title: بلوچستان: کیچ میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی دھماکے کا نشانہ، پانچ اہلکار جان سے گئے copyright: show related homepage: Show on Homepage
www.independenturdu.com
September 16, 2025 at 4:32 AM
درندوں کے خلاف کارروائی کریں: لورالائی مقتول صابر حسین کے والد
**گوجرانوالہ کے نواحی گاؤں صائب سے تعلق رکھنے والے صابر حسین ان نو قتل ہونے والوں میں شامل تھے جنہیں گذشتہ رات لورالائی کے مقام پر بس سے اتار کے شناختی کارڈ دیکھ کر گولیاں مار دی گئیں۔** ان کے والد محمد ریاض کا کہنا ہے کہ ’میں نے اپنے بیٹوں کو کہا تھا کہ واپس آ جاؤ، لیکن وہ یہی کہتے تھے کہ کچھ نہیں ہوتا۔‘ لیکن اس واقعے کے بعد انہوں نے کہا کہ اب وہ اپنے بڑے بیٹے امجد کو واپس کوئٹہ نہیں جانے دیں گے۔ صابر حسین کے والد نے حکامِ بالا سے بھی اپیل کی کہ وہ ایسے درندوں کے خلاف کارروائی کریں تاکہ مزید لوگ محفوظ رہ سکیں۔ ’مجھے آج صبح بھابھی کا فون آیا، اس نے روتے ہوئے مجھے بتایا کہ تمھارے بھائی کو گولی مار کے قتل کر دیا گیا ہے، اس بات کے بعد مجھے کسی چیز کی ہوش نہیں تھی۔‘ یہ الفاظ لورالائی میں قتل ہونے والے صابر حسین کی بہن نائلہ کے تھے۔ انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے مقتول کی چھوٹی بہن نائلہ نے بتایا کہ ان کے بھائی صابر حسین کے چار بچے ہیں اور ان کا باپ ہی گھر کا واحد کمانے والا تھا۔ 10 جولائی 2025 کو لورالائی میں قتل کیے جانے والے درزی صابر حسین کے والد محمد ریاض انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کر رہے ہیں (انڈپینڈنٹ اردو) نائلہ کے مطابق انہوں نے خود جب سے ہوش سنبھالا تب سے انہوں نے اپنے بھائیوں کو کوئٹہ ہی کام کرتے دیکھا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جب کبھی بھی بم دھماکہ ہوتا یا ایسا کوئی واقعہ پیش آتا تو ہم بھائی کو فون کر کے حال احوال دریافت کرتے تھے، تو وہ یہی کہتے تھے کہ وہ ٹھیک ہیں، لیکن ہم خوفزدہ رہتے تھے۔ ’کئی بار بھائی کو واپس آنے کا کہا، لیکن وہ جواباً کہتے تھے آپ بس دعا کر دیا کرو، آپ لوگوں کی دعائیں میرے ساتھ ہیں، مجھے کچھ نہیں ہو گا۔‘ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) نائلہ نے مزید بتایا کہ ’ٹرین والے واقعے (جعفر ایکسپریس) کے بعد بھی وہ یہی کہتے تھے کہ میں سیانا ہوں، اس لیے میں ٹرین کی بجائے بس پر آتا ہوں، اور بس پر ایسا (دہشتگردی کا واقعہ) نہیں ہوتا، مگر اب وہاں بھی یہ ہو گیا۔‘ انہوں نے مزید بتایا کہ ان کا ایک اور بڑا بھائی امجد علی بھی کوئٹہ میں ہی درزیوں کا کام کرتا ہے، لیکن اس واقعے کے بعد وہ اپنے دوسرے بھائی کو کوئٹہ نہیں جانے دیں گے۔ علی رضا، جو کہ مقتول صابر حسین کے بچپن کے دوست ہیں، انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ صابر حسین کوئٹہ میں کاروبار کرتا تھا، تین چار ماہ بعد گھر واپس آیا کرتا تھا، لیکن اب کی بار وہ پندرہ دن بعد واپس آ رہا تھا کیونکہ اسے اپنا آپریٹ کروانا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صابر حسین ان کے ساتھ اس بابت تبادلہ خیال کیا کرتا تھا کہ بلوچستان میں حالات ٹھیک نہیں ہیں، اور شناختی کارڈ دیکھ کر مار دیتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی کہتے تھے کہ یہ سب کوئٹہ سے باہر ہوتا ہے، اندرونِ کوئٹہ میں ایسا کچھ نہیں ہوتا، البتہ مقامی لوگ انہیں اچھا نہیں سمجھتے۔ علی رضا نے مزید بتایا کہ صابر حسین کا بڑا بھائی اور مزید کزنز بھی کوئٹہ جا کر کام کرتے تھے۔ صابر حسین کا چچا زاد بھائی انہی عوامل کی وجہ سے کوئٹہ چھوڑ کر واپس آ گیا تھا، لیکن صابر حسین اور اس کا بڑا بھائی ادھر ہی کام کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا دوست صابر ادھر موجود خوف کا ذکر تو کرتا تھا، لیکن بچوں کی روزی کی خاطر وہ مجبور تھا۔ لورالائی کوئٹہ شناختی کارڈ لورالائی میں 10 جولائی کو قتل کیے جانے والے صابر حسین کے والد نے حکامِ بالا سے بھی اپیل کی کہ درندوں کے خلاف کارروائی کریں تاکہ مزید لوگ محفوظ رہیں۔ بدر ڈار ہفتہ, جولائی 12, 2025 - 18:30 Main image: ملٹی میڈیا jw id: 8tFosmSP type: video related nodes: ’میرا سر 10 جگہ سے پھٹا ہوا ہے‘: لورالائی میں فلورائیٹ کے کان کن سری لنکن ریڈیو سے ایوارڈ لینے والے لورالائی کے شہری ایک نگران وزیراعظم جن کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ نہیں تھا کوئٹہ: بم دھماکے میں دو بھائیوں کی موت، نو زخمی SEO Title: درندوں کے خلاف کارروائی کریں: لورالائی مقتول صابر حسین کے والد copyright: show related homepage: Hide from Homepage
www.independenturdu.com
July 13, 2025 at 1:29 AM
بلوچستان: ہرنائی میں بم دھماکہ، 11 کان کن جان سے گئے
**پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں کوئلے کی کان میں کام کرنے والے مزدوروں کی گاڑی کے قریب بم دھماکے میں 11 افراد جان سے چلے گئے ہیں، جب کہ متعدد زخمی بھی ہوئے ہیں۔** ہرنائی کے ڈپٹی کمشنر حضرت ولی کاکڑ نے صحافیوں کو بتایا کہ دھماکے میں پک اپ گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ لورالائی ڈویژن کے کمشنر زاہد شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ دھماکے میں 11 جان سے جانے والوں کی میتیں ہسپتال پہنچا چکی ہیں، جب کہ زخمیوں میں ایک کی حالت نازک ہے۔ لیویز کنٹرول روم نے صحافی محمد عیسٰی کو بیایا کہ شاہرگ کوئل مائنز ایریا ٹاکری میں پک آپ گاڑی بارودی مواد سے ٹکرائی۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے شاہرگ میں مزدوروں کی گاڑی کے قریب دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’معصوم لوگوں کو نشانہ بنانے والے درندے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’دکھ کی گھڑی میں سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘ بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے ایک بیان میں کہا کہ ’واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا۔‘ انہوں نے بتایا کہ شواہد اکٹھے کئے جا رہے ہیں۔ ’ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دھماکہ خیز مواد روڑ کنارے نصب تھا۔‘ صوبائی حکومت کے ترجمان کے مطابق زخمی مزدوروں کو شاہرگ ہسپتال میں طبی امداد دی جارہی ہے۔ جس علاقے میں دھماکہ ہوا وہ کوئٹہ کے شمال مشرق میں واقع ہے اور ابتدائی معلومات کے مطابق مرنے والوں کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ سے ہے۔ پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں حالیہ ہفتوں میں عسکریت پسندوں کی طرف سے سکیورٹی فورسز اور شہریوں پر پہ در پہ حملوں کے بعد تین فروری کو وزیراعظم شہباز شریف صوبے کا دورہ کیا اور سکیورٹی کی صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ جنوری کے اوخرا میں بلوچستان کے ضلع قلات کے علاقے منگوچر میں عسکریت پسندوں سے جھڑپ میں 18 فوجیوں کی جان گئی تھی جبکہ 12 عسکریت پسند مارے گئے۔ یہ ایک ہی دن میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر سب سے مہلک حملہ تھا۔ اس حملے سے چند روز قبل ہی 27 اور 28 جنوری کی درمیانی شب بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ کے تحصیل گلستان میں عسکریت پسندوں نے ا یف سی کی ایک چوکی پر خودکش بمباروں کے ہمراہ حملہ کیا تھا، جس میں دو فوجیوں کی جان گئی جبکہ جھڑپ کے دوران دو خوکش حملہ آوروں سمیت پانچ شدت پسند مارے گئے۔ پاکستانی فوج کے مطابق اس حملے کے بعد عسکریت پسندوں سے جو اسلحہ قبضے میں لیا گیا وہ امریکہ ساختہ تھا۔ حالیہ مہینوں میں پاکستان کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں عسکریت پسندوں کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ آٹھ جنوری کو بلوچستان کے ضلع خضدار میں شدت پسندوں نے حملہ کر کے کچھ سرکاری اور نجی املاک کو نذر آتش کر دیا تھا۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) اسی طرح پانچ جنوری کو حکام کے مطابق بلوچستان کے شہر تربت کے قریب عسکریت پسندوں کے ایک بم دھماکے میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اہلکاروں سمیت کم از کم چھ افراد کی جان گئی اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ جبکہ شدت پسند مسافر گاڑیوں اور ٹرکوں کو بھی نشانہ بناتے رہے ہیں۔ ان حملوں میں سے بیشتر کی ذمہ داری علیحدگی پسند کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیمیں قبول کرنے کا دعویٰ کرتی رہی ہیں۔ حکومت کی طرف سے صوبے میں امن و امان کے لیے پڑوسی ملک افغانستان کے ساتھ سرحد پر باڑ لگانے کے علاوہ شدت پسندوں کے خلاف انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں لیکن اس کے باوجود عسکریت پسندوں پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔ ایک غیر سرکاری ادارے سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کی سالانہ سکیورٹی رپورٹ کے مطابق 2024 کے دوران پاکستانی سکیورٹی فورسز پر عسکریت پسندوں نے 444 کیے جن جن میں کم از کم 685 اموات ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق عسکریت پسندوں کے حملوں کے نتیجے میں خیبر پختونخوا کے بعد سب سے زیادہ جانی نقصان بلوچستان میں ہوا۔ کوئٹہ بلوچستان بم دھماکہ اموات مزدور ہرنائی کے ڈپٹی کمشنر حضرت ولی کاکڑ نے صحافیوں کو بتایا کہ دھماکے میں پک اپ گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ محمد عیسیٰ جمعہ, فروری 14, 2025 - 10:45 Main image: > <p>بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے ایک بیان میں کہا کہ واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے (فائل فوٹو اے ایف پی)</p> پاکستان type: news related nodes: مستونگ: پولیس موبائل کے قریب بم دھماکا، سات افراد جان سے گئے پشین: پولیس سٹیشن کے قریب بم دھماکہ، دو بچے جان سے گئے تربت میں دھماکہ، دو افراد کی موت اور کم از کم 12 زخمی: پولیس SEO Title: بلوچستان: ہرنائی میں بم دھماکہ، 11 کان کن جان سے گئے copyright: show related homepage: Show on Homepage
www.independenturdu.com
February 14, 2025 at 7:38 AM